خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 645 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 645

خطبات مسرور جلد 11 645 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء پھر اپنے مشن کے غرض کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اُس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو براہین اور حج ساطعہ کے ساتھ یعنی روشن دلائل کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھاؤں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 432 - مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک جگہ آپ نے اپنی آمد کا مقصد یہ بھی فرمایا کہ: میں خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا کرانا چاہتا ہوں کہ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لا وے وہ گناہ کی زہر سے بچ جاوے اور اُس کی فطرت اور سرشت میں ایک تبدیلی ہو جاوے۔اُس پر موت وارد ہو کر ایک نئی زندگی اُس کو ملے۔گناہ سے لذت پانے کی بجائے اُس کے دل میں نفرت پیدا ہو۔جس کی یہ صورت ہو جاوے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے خدا کو پہچان لیا ہے۔خدا خوب جانتا ہے کہ اس زمانے میں یہی حالت ہو رہی ہے کہ خدا کی معرفت نہیں رہی۔کوئی مذہب ایسا نہیں رہا جو اس منزل پر انسان کو پہنچا دے اور یہ فطرت اُس میں پیدا کرے۔ہم کسی خاص مذہب پر کوئی افسوس نہیں کر سکتے۔یہ بلا عام ہو رہی ہے اور یہ وبا خطر ناک طور پر پھیلی ہے۔میں سچ کہتا ہوں خدا پر ایمان لانے سے انسان فرشتہ بن جاتا ہے، بلکہ ملائکہ کا مسجود ہوتا ہے۔یعنی فرشتے بھی اُس کو سجدہ کرتے ہیں۔” نورانی ہو جاتا ہے۔غرض جب اس قسم کا زمانہ دنیا پر آتا ہے کہ خدا کی معرفت باقی نہیں رہتی اور تباہ کاری اور ہر قسم کی بدکاریاں کثرت سے پھیل جاتی ہیں، خدا کا خوف اُٹھ جاتا ہے اور خدا کے حقوق بندوں کو دیئے جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ایسی حالت میں ایک انسان کو اپنی معرفت کا نور دے کر مامور فرماتا ہے۔اُس پر لعن طعن ہوتا ہے اور ہر طرح سے اُس کو ستایا جاتا اور دُکھ دیا جاتا ہے لیکن آخر وہ خدا کا مامور کامیاب ہو جاتا اور دنیا میں سچائی کا نور پھیلا دیتا ہے۔اسی طرح اس زمانہ میں خدا نے مجھے مامور کیا اور اپنی معرفت کا نور مجھے بخشا۔“ پھر آپ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا : ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 493-494 - مطبوعہ ربوہ ) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاقی قوتوں کی تربیت کروں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 499 - مطبوعہ ربوہ ) ایک موقع پر آپ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ کے دعوے اور رسالت کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یعنی اس سے آپ کو کیا مقاصد حاصل ہوں گے؟ آپ کیوں آئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: