خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 644
خطبات مسرور جلد 11 644 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء فائدہ نہیں۔تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔ہمارا کام اور ہماری غرض یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ، اس لیے ہر ایک کو تم میں سے ضروری ہے 66 کہ وہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 352 - مطبوعہ ربوہ ) پس اگر ہم اپنے وجود میں تبدیلی کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو اور وجود نہیں بناتے ، اپنے آپ کو ایسا نہیں بناتے جو دنیا سے مختلف ہو تو آپ کے ارشاد کے مطابق ہمیں بیعت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔پھر ایک جگہ بعثت کی غرض بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآنِ کریم لایا ہے اور دار النجاة میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا کہ: ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 392-393 - مطبوعہ ربوہ ) ’ہمارا اصل منشاء اور مدعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا ہے اور آپ کی عظمت کو قائم کرنا۔ہمارا ذکر تو ضمنی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 200۔مطبوعہ ربوہ ) ہماری تعریف اگر ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں ہے۔پس ہم نے یہ غرض بھی پوری کرنے کے لئے بیعت کی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی تعلیم کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عمل کریں اور اس تعلیم کو پھیلائیں کیونکہ دنیا کی نجات بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ میں ہے۔پس دنیا کو بتائیں کہ اس لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے جھنڈے تلے آ کر تم بھی نجات حاصل کرو۔پھر آپ ایک جگہ اپنی آمد کا مقصد بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ وہ اسلام کوگل ملتوں پر غالب کرے۔اُس نے مجھے اسی مطلب کے لئے بھیجا ہے اور اسی طرح بھیجا ہے جس طرح پہلے مامور آتے رہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 413 - مطبوعہ ربوہ )