خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 643
خطبات مسرور جلد 11 643 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء بہر حال یہ کمزوریاں کس طرح دُور ہوں گی اور ایمان کس طرح کامل ہوگا ؟ اس بارے میں آپ نے بڑا کھل کر واضح فرمایا ہے کہ صرف میری بیعت میں آنے سے نہیں ہو گا بلکہ اس کے لئے مجاہدہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہی اصول خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت : 70) یعنی اور وہ لوگ جو ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں۔ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے کہ : وہ لوگ جو ہم میں ہو کر کوشش کرتے ہیں، ہم اُن کے لئے اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 338۔مطبوعہ ربوہ ) پس ایمان میں کامل ہونے کا یہ اصول ہے کہ صرف بیعت کرنے سے اصلاح نہیں ہوگی۔اگر اس کے ساتھ اپنی حالت بدلنے کے لئے مزید کوشش نہیں ہوگی، اگر خالص اللہ تعالیٰ کے ہو کر کوشش نہیں ہوگی ، اپنے دلوں کو بدلنے اور پھر عمل کرنے اور جہاد کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوگی تو اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ: ”دنیا میں ہر چیز کی ترقی تدریجی ہے۔روحانی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے اور بڑوں مجاہدہ کے کچھ بھی نہیں ہوتا اور مجاہدہ بھی وہ ہو جو خدا تعالیٰ میں ہو۔“ یعنی خالص ہو کر اُس کی تلاش ہو، اُس کی تعلیم پر عمل ہو۔یہ نہیں کہ قرآن کریم کے خلاف خود ہی بے فائدہ ریاضتیں اور مجاہدہ جو گیوں کی طرح تجویز کر بیٹھے۔یہی کام ہے، جس کے لئے خدا نے مجھے مامور کیا ہے تا کہ میں دنیا کو دکھلا دوں کہ کس طرح پر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 339 - مطبوعہ ربوہ) اور پھر آپ نے ہمیں کیا دکھایا اور ہم سے کیا امید کی؟ آپ نے وہ نمونے قائم کئے اور ان نمونوں پر چلنے کی تلقین کی جو آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادتوں کے بھی قائم کئے اور حسن خلق کے بھی قائم کئے اور جن کو قائم کرنے کے لئے پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بھی مجاہدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے کہلائے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ایسے وارث ہوئے کہ ایک دنیا کو اپنے پیچھے چلالیا۔پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ آپ کے ماننے والوں کو کیسا انسان بننے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : میں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لئے جاویں۔اس سے کچھ