خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 642 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 642

خطبات مسرور جلد 11 642 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 نومبر 2013 ء بمطابق 22 نبوت 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں تحریرات میں، ارشادات میں ہمیں اپنی بعثت کے مقصد کے بارے میں بتایا۔پس ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا دعوی کرتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ اس مقصد بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ان مقاصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں تا کہ آپ کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے والوں میں شمار ہو سکیں۔ان مقاصد میں سے بعض اس وقت میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔آپ علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں پھر ایمان کو زندہ کرنے کے لئے مامور کیا ہے اور اس لئے بھیجا ہے کہ تا کہ لوگ قوت یقین میں ترقی پیدا کریں۔اس بات پر یقین ہو کہ خدا ہے اور دعاؤں کو سنتا ہے اور نیکیوں کا اجر دیتا ہے اور برائیوں کی سزا بھی دیتا ہے۔آپ اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تک ایمان کامل نہ ہو ، انسان مکمل طور پر نیک اعمال بجالا نہیں سکتا۔فرمایا کہ جو جو کمزور پہلو ہوگا ، اُسی قدر نیک اعمال میں کمی ہوگی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 320۔مطبوعہ ربوہ ) پس انبیاء اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور یقین پیدا کرنے آتے ہیں اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا ایک بہت بڑا مقصد ہے تا کہ کمزوریاں دور ہوں اور ایمان کامل ہو۔یہ آپ کے بعض الفاظ کا ارشادات کا خلاصہ ہے۔میں نے سارے الفاظ نہیں لئے ، اُس کا خلاصہ بیان کیا ہے۔