خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 632
خطبات مسرور جلد 11 632 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء دوران جماعت احمدیہ کے پچاس افراد نے دو ہفتوں تک مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں مدد کی۔انہوں نے کہا کہ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ بیرونِ ملک سے ہجرت کر کے یہاں بسنے والے معاشرے میں نہیں گھلتے ملتے۔لیکن ہم اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ احمد یہ مسلم کمیونٹی کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا۔بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو آسٹریلیا سے پیار کرتے ہیں اور اس ملک کے لئے قابل قدر خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور یہی محبت اور رواداری ہے جس کی دنیا کو آج ضرورت ہے۔پھر پولیس کمشنر بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔انہوں نے بھی جماعت کی خدمات کو بڑا سراہا اور کہنے لگے کہ جماعت ہمیشہ ہمارے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور تمام لوگوں سے عزت سے پیش آتی ہے اور آپ لوگ اعلیٰ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یہ بول رہے تھے تو میرے ساتھ ایک ممبر آف پارلیمنٹ بیٹھے ہوئے تھے۔اُس کے بعد جب یہ گئے تو وہ مجھے کہنے لگے کہ یہ جو کمشنر ہیں ہمارے یہاں ان کا سٹیٹس (status) بڑا اونچا ہوتا ہے۔اور عموماً یہ فنکشنز میں شامل نہیں ہوا کرتے۔مجھے بڑی حیرت ہو رہی ہے کہ یہاں تم لوگوں کے فنکشن میں یہ آ گئے۔پھر ایک ممبر آف پارلیمنٹ نے جب میرا وہ ایڈریس سنا تو کہنے لگے کہ میں جذبات سے بھر گیا ہوں اور بے حد متاثر ہوا ہوں۔یہ خطاب دل سے کیا گیا تھا۔اس خطاب نے اس مسجد کے متعلق ہر ایک کو مطمئن کر دیا ہے۔امام جماعت کے خطاب کے دوران میں نے خاص طور پر غیر مسلم سامعین کے چہروں کو دیکھا اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ امام جماعت کے اس پیغام کو گرمجوشی سے سراہ رہے ہیں۔وہاں ایک ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔میرا خیال ہے غالباً یہ وہی ہیں جن کے ساتھ سائنس کے حوالے سے کچھ تبلیغی گفتگو بھی ہوئی کہ قرآن کیا کہتا ہے؟ بائبل کیا کہتی ہے؟ تو کہنے لگے کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ قرآن کی تعلیم بائبل سے بالا ہے اور بہتر لگتی ہے۔بہر حال اُن کو میں نے کہا کہ پھر آپ قرآن شریف پڑھیں بھی اور وہاں کے جو مقامی احمدی تھے اُن سے کہا ان کو بعض آیتوں کے حوالے بھی نکال دیں اور five volume commentary بھی اُن کو دی گئی تو اس طرح تبلیغ کے راستے بھی اللہ کے فضل سے کھلتے ہیں۔Dr۔John صاحب ایک مہمان تھے۔کہتے ہیں کہ آج رات یہاں آنے سے پہلے میں بہت گھبرایا ہوا تھا کیونکہ میں مسلمان نہیں ہوں اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھ سے کس قسم کا سلوک کیا جائے گالیکن آج مرزا مسرور احمد نے میری ساری گھبراہٹ دور کر دی ہے۔