خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد 11 628 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء ہوتے ہیں۔بس ہم سب کو یہی خوبیاں اپنانی چاہئیں۔تو یہ ایک تاثر ہے جو احمدیوں کا دنیا میں اکثر جگہوں پر ہے۔جرمنی میں بھی یا کہیں بھی جاؤں تو مجھے سے جب باتیں ہوں تو اس حوالے سے وہ ذکر کرتے ہیں۔پس اس تاثر کو ہر عورت کو ، ہر بچے کو آگے بڑھانا چاہئے اور اپنی سوچ ہمیشہ اونچی رکھنی چاہئے۔کسی قسم کے complex میں آنے کی ضرورت نہیں۔یہ لوگ ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہیں اور نہ صرف تیار ہیں بلکہ اُس کو پسند کرتے ہیں اور اپنانا چاہتے ہیں۔اسی طرح یہاں Church of Jesus Christ کے Murray Lobley صاحب تھے۔کہتے ہیں کہ جس انداز سے امام جماعت احمدیہ نے امن کی بات کو انتہائی عام فہم الفاظ میں بیان کیا ہے ہر آسٹریلین اس کو با آسانی سمجھ سکتا ہے۔آج اس ہال میں موجود ہر شخص کے دل کی یہی آواز تھی کہ امن کے قیام کے لئے محبت ہی واحد راستہ ہے اور بہت ہی اچھا ہوا کہ آج ہم یہ پیغام اپنے ساتھ اپنی اپنی communities میں لے کر جائیں گے۔پھر ایک مہمان نے کہا کہ میں اور میری بیوی گزشتہ اٹھارہ سال سے سچ کی تلاش میں ہیں اور آج رات جو ہم نے سنا وہ سچ کے سوا کچھ نہ تھا۔امام جماعت کا خطاب ایک مکمل پیغام تھا۔اب صرف ایک ہی بات ہے کہ ہم سب کو اس پر عمل کرنا چاہئے اور اس پیغام کو اپنے دلوں میں سجا لینا چاہئے۔خلیفہ اسیح نے صرف یہ نہیں بتایا کہ امن کیسے قائم ہو سکتا ہے بلکہ یہ بھی بتایا کہ اگر امن قائم نہ ہوا تو کیا ہوسکتا ہے۔اسی طرح وہاں کا آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا ایک مشہور چینل اے بی سی ہے۔سرکاری چینل ہے۔اُس کے ایک جرنلسٹ نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ امام جماعت کا خطاب انتہائی کپا تلا اور متوازن اور منصفانہ تھا اور حقیقت پر مبنی تھا۔اور اس خطاب نے ہمارے ذہنوں کوکھول دیا ہے۔پھر ایک مہمان خاتون Adrienne Green نے کہا کہ میں بہت فخر محسوس کر رہی ہوں کہ آج میں نے ایک شاندار تقریب میں شمولیت کی اور میں بہت متاثر ہوں جو انہوں نے دنیا میں امن کے قیام کے بارے میں بات کی ہے۔میں آج برملا یہ بات کہتی ہوں کہ مجھے آپ کے اقدار سے بہت محبت ہے اور میں خواہش کرتی ہوں کہ میرے ملک آسٹریلیا کے لوگ ان اقدار کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنا ئیں اور میں چاہتی ہوں کہ آپ ضرور اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا ئیں۔ہمیں اس کی ضرورت ہے۔اور یہ باتیں کہتے ہوئے موصوفہ کے آنسونکل رہے تھے۔ایک کونسلر Knox City کے تھے وہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں کہ امام جماعت کے