خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 627

خطبات مسرور جلد 11 627 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء اسی طرح فلپائن کے ایک سیکرٹری ایجو کیشن رہ چکے ہیں، یہ مسلمان ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں جماعت احمدیہ کے بارے میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ جماعت غالب آنے والی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا تھا آج اسی طرح جماعت احمدیہ پر ظلم ہو رہا ہے۔جس طرح اسلام کو پہلے زمانے میں فتح حاصل ہوئی اُسی طرح آج جماعت احمدیہ کو بھی فتح حاصل ہوگی جو کہ یقینی ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں۔احمدیت کو جب عظیم الشان فتح حاصل ہوگی تو ہم بھی اُس میں شامل ہوں گے۔ان میں سے بعض دل سے تقریباً احمدی ہوئے ہوئے ہیں صرف بعض تنظیمیں وہاں ایسی ہیں جن کا اُن کو خوف ہے۔یہاں جو مختلف پروگرام تھے ان میں سے اصل پروگرام یہی سنگاپور کی reception کا تھا، باقی تو جمعہ تھا اور ملاقاتیں تھیں۔بہر حال اس کے بعد آسٹریلیا کا دورہ شروع ہوا۔وہاں سڈنی (Sydney) میں چند دن رہ کر میلبورن (Melbourne) میں گیا۔میلبورن وہاں سڈنی سے کوئی آٹھ نو سو میل دور ہے۔وہاں بھی Princess Reception Centre میں ایک reception تھی۔اس میں تقریباً 220 کے قریب مختلف شعبہ ہائے زندگی کے مہمان شامل ہوئے۔جن میں ممبر آف پارلیمنٹ بھی تھے ، فوج کے اعلیٰ افسران، بلکہ اُن کے فوج کے جو آرمی چیف ہیں اُن کے نمائندے بھی شامل ہوئے تھے، میجر جنرل کے rank کے آدمی تھے اور مختلف ممالک کے کونسلرز تھے۔فیڈرل پولیس کے افسران تھے، پھر دوسرے مقامی کونسلر تھے، پروفیسر تھے ، اسی طرح مختلف لوگ تھے۔ایک سٹیٹ ممبر پارلیمنٹ وکٹوریہ Ms Inga Peulich نے کہا کہ آپ کا یہ پیغام ایسا پیغام ہے جس کی تمام آسٹریلین تائید کرتے ہیں جو کہ مختلف قوموں اور تمدنوں کے باہم اختلاط سے ایک قوم بنے ہیں اور بطور آسٹریلین ہم اس طرح کے اعلی پیغام کو اپنانا چاہتے ہیں اور اسی طرح آپ جیسے لوگوں سے مکمل تعاون کرتے ہیں جو ایسے پیغام کو پہنچارہے ہیں۔یہاں بھی اسلام کا پیغام امن اور سلامتی کے بارے میں تھا۔پھر ایک اور ممبر آف پارلیمنٹ کہتی ہیں آج جو پیغام آپ نے دیا ہے وہ مذہب سے بالا ہے۔وہ انسانیت کا پیغام ہے۔ہمیں سب کو یہی پیغام اپنانا ہے۔امن، انصاف، رواداری اور خدمت انسانیت ایسی خوبیاں ہیں جو امام جماعت احمدیہ نے آج بیان کی ہیں۔ہم نے انہی خوبیوں کو لے کر چلنا ہے۔پھر کہتی ہیں کہ میں اس بات کو جانتی ہوں کہ احمدی عورتیں اس پیغام کو نہ صرف آگے پہنچا رہی ہیں بلکہ عملی طور پر اس پر عمل بھی کر رہی ہیں۔کہتی ہیں کہ میں تو یہی جانتی ہوں کہ احمدی بچے با اخلاق تعلیم یافتہ اور انتہائی مؤدب