خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 626 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 626

خطبات مسر در جلد 11 626 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء پھر تاسک ملایا میں یوتھ موومنٹ کے ایک ممبر ہیں، وہ خطاب کے بعد کہنے لگے کہ یہ تمام انڈو نیشین لوگوں تک پہنچنا چاہئے تا کہ وہ امن اور ہم آہنگی پر مشتمل اسلامی تعلیمات کو سمجھ سکیں۔پھر ایک Mr Kunto Sofianto صاحب ہیں۔یہ پی ایچ ڈی ہیں۔انڈونیشیا میں یونیورسٹی پروفیسر ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ انڈو نیشیا کے وہ لوگ جو احمد یوں کے مخالف ہیں وہ خلیفہ اسیح سے ملیں اور ان کی باتیں سنیں تا کہ اُن کے دل کھلیں۔آج صرف جماعت احمدیہ کے خلیفہ ہی ہیں جو اسلام کو امن پسند مذہب کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔پھر انڈونیشین اخبار ٹریبیون جابار (Tribune Jabar) کے جرنلسٹ جو احمدیت کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ امسیح نے انسانیت، انصاف اور امن پر مبنی اقتصادی نظام کے بارے میں جو تعلیمات بیان کی ہیں اس نے مجھ پر گہرا اثر کیا ہے۔ایک انگریز نو جوان سنگا پور میں گزشتہ ستائیس سال سے مقیم ہیں اور وہاں انہوں نے اسلام قبول کیا۔وہیں ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جب میں نے پروگرام میں شامل ہونے کا ارادہ کیا تو میری کمپنی والوں نے مجھے روکا کہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہونا۔دو تین بار روکا۔ہوسکتا ہے یہ کسی مسلمان کی ہو۔کہتے ہیں مجھے یہ بھی کہا کہ تمہیں فارغ کر دیں گے۔لیکن اس کے باوجود میں شامل ہوا۔پھر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ میں پہلے سے مسلمان ہوں لیکن اسلام کی جو سچی اور حقیقی تعلیم آج سنی ہے وہ زندگی میں پہلی بارسنی ہے اور اسلام کی یہ تصویر پہلی مرتبہ دیکھی ہے۔بلکہ اس بات پر بھی مائل تھے کہ اسلام احمدیت کے بارے میں مزید معلومات لوں گا تا کہ مجھے صحیح اسلام کا پتہ لگ سکے اور میں جماعت میں شامل بھی ہونا چاہوں گا اور جب یہاں یو کے آؤں گا تو ملوں گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ کرے۔اللہ ان کا سینہ کھولے۔فلپائن سے بھی کچھ لوگ آئے ہوئے تھے۔اُس کی یونیورسٹی میں ایشین اور اسلامک سٹڈی کے پروفیسر نے یہ اظہار کیا۔پہلے تو انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ ان کو یہاں بلایا گیا ، آنے کا موقع دیا گیا، ملاقات ہوئی۔اور پھر کہتے ہیں کہ جو باتیں ہوئیں (میرے ساتھ بیٹھ کے ان کی کافی باتیں ہوئیں ) اُن سے یہی اندازہ لگایا ہے کہ جماعت احمدیہ ہی ہے جو مسلمانوں کو اکٹھا کر سکتی ہے اور میرا کہا کہ انہوں نے اکٹھا کرنے کا جو طریق بتایا ہے یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کی جو حقیقی تعلیم ہے اُس کی طرف واپس چلے جائیں۔