خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 608 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 608

خطبات مسرور جلد 11 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ایک حقیقی مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔وقتی جذبات کے تحت بعض قربانیاں اور بعض عمل بے شک بعض اوقات نیکیوں کی طرف رغبت دلانے کا باعث بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے گئے ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے اور اُن کو سمیٹنے والے بھی بن جاتے ہیں لیکن ہم جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونے والا کہتے ہیں، ہمارے مقصد حقیقت میں تب حاصل ہو سکتے ہیں جب ہم مستقل مزاجی سے اپنے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرنے کی کوشش کریں۔جب ہم جماعت احمد یہ کے قیام کے مقصد کو اپنے پیش نظر رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : مُنْعَم عَلَيْهِم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔“ (الحلم 31 مارچ 1905 ء جلد 9 شمارہ نمبر 11 صفحہ 6 کالم 2) پس یہ ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لگائی ہے کہ ہم نے اُن مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے حاصل کئے یا اُن کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے مسلسل جان، مال اور وقت کی قربانی دی۔اور اللہ تعالیٰ کے حقوق ڈرتے ہوئے ادا کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور ڈرتے رہے اور اپنی دعائیں پیش کرتے رہے۔کسی قربانی پر فخر نہیں کیا بلکہ یہ دعا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔اپنی عبادتوں کے معیار بلند کئے تو ایسے کہ اپنی راتوں کو بھی عبادتوں سے زندہ رکھا اور اپنے دنوں کو بھی باوجود دنیاوی کاروباروں کے اور دھندوں کے یاد خدا سے غافل نہیں ہونے دیا۔پس یہ وہ مقصد ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔یہی وہ مقصد ہے جس کے بارے میں قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نے یہ مقصد پالیا تو اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کر لیا۔کیونکہ انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ہم جب مساجد بناتے ہیں یا اجتماعی عبادت کے لئے کوئی جگہ خریدتے ہیں تو یہی مقصد پیش نظر ہونا چاہئے کہ ہم نے مستقل مزاجی کے