خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 609
خطبات مسرور جلد 11 609 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء ساتھ اپنی پیدائش کے مقصد کی بلندیوں پر جانا ہے۔دنیا میں تو جو مقاصد ہیں اُن کی بعض حدود ہیں۔ایک خاص بلندی ہے جس کے بعد انسان خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے اُسے پالیا ہے۔یا اس دنیا میں ہی اس کے نتائج حاصل کر لئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کا مقصد تو ایسا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے قربت کے نئے سے نئے دروازے کھولتا چلا جاتا ہے اور پھر مرنے کے بعد بھی اس دنیا کے عملوں کی اگلے جہان میں جزا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے لا محدود رحم اور فضل کے تحت ترقی ممکن ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے اور ایسے انعامات کا انسان وارث بنتا ہے جو انسان کی سوچ سے بھی باہر ہیں۔صحابہ رِضْوَانُ الله عَلَيْهِم نے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی کی منازل طے کیں اور رضی اللہ عنہ“ کا اعزاز پایا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کے افراد کو اسی طرح ترقی کی منازل طے کرتا دیکھنا چاہتا ہوں جس سے وہ اپنے مقصد پیدائش کو حاصل کر کے پھر اس کے مدارج میں ترقی کرتے چلے جائیں ان کے درجے بلند ہوتے چلے جائیں ، اور وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے حاصل کرنے والے بنتے چلے جائیں۔آپ نے فرمایا کہ میری جماعت میں ایسے لوگ ہوں جو قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر بطور گواہ ٹھہریں۔کیا قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ کی آخری اور مکمل کتاب ہے اس کی عظمت ہماری گواہی سے ہی ثابت ہوگی؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی،سب سے پیارے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اُن کی عظمت ہمارے کسی عمل کی مرہونِ منت ہے؟ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے عملوں میں ایک انقلاب قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چل کر ظاہر ہو۔اور اس طرح ظاہر ہو کہ دنیا کہہ سکے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیوں میں یہ انقلاب قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم پر عمل کر کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چل کر آیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی جو عبادت کرنے کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے سے ہوتی ہے، اس کا حق ادا کرنے والے ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی جو ہر قسم کے خلق کی اعلیٰ مثال قائم کرنے سے ہوتی ہے اُس کا حق ادا کر نے والے ہیں۔پس جس طرح کہ مجھے جور پورٹ دی گئی ہے اس میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہمارے ایک جاپانی غیر مسلم وکیل دوست نے ، آپ کی جو نئی جگہ خریدی گئی ہے جس کا نام ”مسجد بیت الاحد رکھا گیا ہے، ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے اس کے مختلف مواقع پر جو بھی روکیں پیدا ہوتی رہیں ان میں انہوں نے بے لوث مدد کی۔وہ اس وجہ سے کہ جماعت کے حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے کی گئی مختلف