خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 604

خطبات مسرور جلد 11 604 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء که قَد أَفْلَحَ مَن زَهَا (الشمس: 10) - تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو “ کسی پیشے میں بھی جاؤ جو چاہو کرو مگر نفس کو خدا کی نافرمانی سے روکتے رہو۔“ وہی لوگ فلاح پاتے ہیں جو اپنے نفس کو پاک رکھتے ہیں۔اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں۔پھر جو تمہاری دنیا ہے یہی دین کے حکم میں آجاوے گی۔یہ دنیا کمانا، یہ تجارتیں، یہ کاروبار، یہ ملازمتیں، یہ بھی پھر دین بن جاتا ہے اگر نیت نیک ہو۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کا عہد ہو۔فرمایا کہ: ”انسان دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا۔دل پاک ہو اور ہر وقت یہ کو اور تڑپ لگی ہوئی ہو کہ کسی طرح خدا خوش ہو جائے تو پھر دنیا بھی اُس کے واسطے حلال ہے۔انما الاعمال بالنيات، یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 550 مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہے وہ حالت جو ہر احمدی کی ہونی چاہئے اور جب آپ عہد کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہماری دنیا بھی دین کے تابع ہوگی۔ہمارے سے کوئی ایسا کام سرزد نہیں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور منشاء کے خلاف ہو۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ، جو یہ سوچ بھی رکھتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں بھی گزارتے ہیں۔اگر یہ نہیں تو نہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان ہمیں کچھ فائدہ دے گا، نہ ہمارا مسجد میں بنانا ہمیں فائدہ دے گا۔اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، ان دنوں میں آپ کا جلسہ بھی ہو رہا ہے۔تو یہ جلسہ بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی فرمایا ہے کہ یہ جلسہ بھی کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے۔پس اس جلسہ میں آنے کا بھی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ، دین کا علم حاصل کرنا، روحانی فیض اُٹھانا ہے۔پس یا درکھیں کہ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اس مسجد کے بننے کے ساتھ آپ میں پہلے سے بڑھ کر پاک تبدیلیاں ہونی چاہئیں اور اس کے ساتھ ہی تبلیغ کے بھی نئے راستے کھلیں گے، انشاء اللہ تعالٰی ، تو آپ کی عملی حالت دیکھ کر لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ بھی پیدا ہوگی۔اس لئے اپنے عملوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔تبلیغ کے بارے میں بھی میں ذیلی تنظیموں اور جماعتی نظام کو خاص توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ یہاں بھی صرف اپنے روایتی طریق تبلیغ جو ہے، اُسی پر انحصار نہ کریں اور بیٹھ نہ جائیں کہ بس ہم جو کر رہے ہیں وہ کافی ہے ہمارے لئے ، بلکہ تبلیغ کے لئے نئے نئے راستے تلاش کریں، نئے نئے طریق تلاش کریں۔اسلام