خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 605
خطبات مسرور جلد 11 605 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء کا زیادہ سے زیادہ تعارف کروائیں۔اب ماؤری زبان میں جو قرآنِ کریم کا ترجمہ ہوا ہے، اس نے بھی جماعت کا ایک تعارف کروایا ہے۔اُن کے اپنی زبان کے ٹی وی نے بھی اور ریڈیو نے بھی اُس کو اچھی کوریج دی ہے۔دو دن پہلے جو فنکشن ہوا تو مسجد کے افتتاح سے مزید تعارف ہوگا۔پس یہ تمام انتظامات جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں اگر ہم ان کو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے استعمال کریں گے تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بنیں گے۔پس آج جہاں اپنی عبادتوں کے حق ادا کرنے کی کوشش کا عہد کریں وہاں اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ آپس میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے محبت اور پیار اور تعاون کو بھی بڑھائیں اور پھر علاقے کے لوگوں کو بھی حقیقی اسلام کا تعارف کروائیں۔اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہوئی ہیں اُن کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔تھوڑی تعداد بھی اگر ہے تو اگر اپنے ارادے پختہ ہوں، ارادے اچھے، ہمت جوان ہو تو تھوڑی تعداد بھی بہت کچھ کر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی سب کو تو فیق عطا فرمائے۔ی اتنی خوبصورت مسجد جو آپ نے بنائی ہے، دنیا میں جو احمدی بیٹھے ہیں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے آج سارے دیکھ بھی رہے ہیں۔احمدیوں کو بھی کچھ خواہش ہوتی ہے، دلچپسی ہوتی ہے کہ اس کی تفصیل بیان کی جائے تو مختصراً مسجد کے کوائف بھی بتا دوں۔یہ تو میں بتا ہی چکا ہوں کہ اس پر خرچ کتنا ہوا۔تین اعشاریہ ایک ملین ڈالر، اور مسجد بیت المقیت اس کا نام ہے جو پہلے بال کا نام تھا۔اور یہ جگہ بھی اس لحاظ سے اچھی ہے۔ریلوے اسٹیشن اور شہر کی دو بڑی موٹروے (Motorway) اس سے چند منٹ کی دوری پر واقع ہے اور اس کا کل رقبہ یہاں کا پونے دوا یکڑ ہے جو 1999ء میں خریدی گئی تھی اور 256 مربع میٹر کا ایک ہال موجود تھا۔2002ء میں لجنہ کے لئے 112 مربع میٹر کا الگ ایک ہال بنایا گیا۔اور یہ دونوں ہال اب تک بطور نماز سینٹر استعمال ہورہے تھے۔ہال کے اوپر مشنری کا گھر بھی ہے۔بہر حال 2006ء میں جب میں نے دورہ کیا تو مسجد کے لئے کہا۔2012ء جولائی میں اس کی با قاعدہ تعمیر شروع ہوئی اور اگست 2013ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔دو منزلہ مسجد ہے اور نچلی منزل لجنہ کے لئے ہے، مسجد کا ہال، 239 مربع میٹر، نیچے آڈیو وڈیو روم ہے نیچے، کانفرنس روم ہے، اور اس طرح وضو وغیرہ کے لئے سہولیات ہیں۔باہر سے اس کا منارہ بھی نظر آتا ہے۔ایم ٹی اے پر دنیا نے دیکھ لیا ہوگا۔ساڑھے اٹھارہ میٹر اونچا ہے، گنبد کا سائز بھی آٹھ میٹر ہے۔نمازیوں کی گنجائش دونوں ہالوں میں محتاط اندازہ جو ان کا کونسل کے مطابق ہے وہ چھ سو ہے۔