خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 603
خطبات مسرور جلد 11 603 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء کہیں جاوے، کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔اسی طرح پر جو لوگ خدا 66 تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی خدا تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔“ پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ,, دین اور دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 15 - مطبوعہ ربوہ ) ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 162 - مطبوعہ ربوہ ) یہ بالکل درست ہے۔لیکن فرمایا یہ بھی یاد رکھو کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اور تجارت والا تجارت کو اور ملازمت والا ملازمت کو اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ جائے۔“ یعنی کوئی کام ہی نہ کرے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ ولابيعٌ عَنْ ذِكْرِ الله ( النور : 38 ) والا معاملہ ہو۔دست با کار، دل بایار والی بات ہو۔“ یعنی ہاتھ کام کر رہے ہوں اور دل اپنا خدا تعالیٰ کی طرف توجہ میں رہے۔فرمایا کہ ” تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر ، غرض جو جس کام میں ہے، اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اُس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اُس کے احکام اور اوامر و نواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔اللہ تعالیٰ کے جتنے حکم ہیں ، جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے یہ کرو، اُن باتوں کے کرنے کو اپنے سامنے رکھو۔جن باتوں سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے رُک جاؤ ، اُن باتوں سے رکنے کو اپنے سامنے رکھو، اُن سے بچنے کی کوشش کرو۔اور پھر جب اللہ تعالیٰ کے حکم اپنے سامنے رکھو گے تو ایک لائحہ عمل سامنے ہوگا اور پھر اُس کے اندر ہی انسان کام کرتا ہے۔جو چاہے کرو سے مراد یہ ہے۔پھر تمہارے لئے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہوگا کہ انہی رستوں پر چلو جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر فرمایا کہ اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کا روبار چھوڑ کر لنگڑے لولوں کی طرح نکھے بیٹھے رہو اور بجائے اس کے کہ اوروں کی خدمت کرو، خود دوسروں پر بوجھ بنو “ یہ نہیں اسلام کہتا کہ کام نہ کرو، سارا دن بیٹھے رہو، ذکر الہی بھی ہو لیکن اپنے کام بہر حال کرنے ہیں۔فرمایا ”نہیں بلکہ سست ہونا گناہ ہے۔بھلا ایسا آدمی پھر خدا اور اُس کے دین کی کیا خدمت کر سکے گا۔عیال و اطفال، یعنی بیوی بچے ” جو خدا نے اُس کے ذمے لگائے ہیں اُن کو کہاں سے کھلائے گا۔پس یادرکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو۔بلکہ اُس کا جو منشاء ہے وہ یہ ہے