خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 602 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 602

خطبات مسرور جلد 11 602 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء پیچھے چلنے سے کچھ عرصے کے لئے عارضی دنیاوی فائدہ تمہیں شاید ہو جائے اور اس میں بھی ہر وقت بے چینی رہتی ہے اور دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ اب یہ نہ ہو جائے اب وہ نہ ہو جائے۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی تلاش میں رہو گے، اگر اس کے بنو گے تو دین بھی ملے گا اور دنیا بھی غلام بن جائے گی۔خدا تعالیٰ بھی ملے گا اور دنیا بھی مل جائے گی۔جیسا کہ میں نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کروڑوں کا کاروبار کرتے تھے لیکن کبھی اپنی عبادتوں کو نہیں بھولے۔کبھی ذکر الہی کو نہیں بھولے کبھی اللہ تعالیٰ کا خوف ان کو نہیں بھولا۔پس ہم جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا اظہار کرتے ہیں، یہ تبدیلیاں اُس وقت فائدہ مند اور ہمیشہ رہنے والی ہوں ئی جب حقیقی رنگ میں ہوں۔صرف ہمارے مونہوں کی باتیں نہ ہوں ،صرف زبانی اقرار نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ پاک تبدیلیاں حقیقت میں تم پیدا کر لو، تقویٰ پر قدم مارنے والے بن جاؤ، تمہاری نمازیں بھی وقت پر ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوں اور تمہارے دوسرے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا پانے والے ہو گے۔تمہیں دنیاوی رزق بھی ملے گا اور روحانی رزق بھی ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ دنیا کے کام نہ کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد نہیں بھولنی چاہئے۔یہ نہ ہو کہ تم دنیاوی کاروباروں کی وجہ سے اپنی نمازیں بھی ضائع کر دو اور اپنے مقصد پیدائش کو بھول جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ اگر ایسا ہے کہ تم نماز میں بھول رہے ہو، دنیا میں ڈوبے ہوئے ہو، تو پھر تمہارے میں اور غیر میں کیا فرق ہے۔کیا فائدہ ہے اس بیعت کا ؟ پس اس فرق کو واضح کر کے بتانا ہماری ذمہ داری ہے۔اگر ہم اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل سمجھتے ہیں تو یہ واضح کرنا ہوگا اور یہ واضح اُس وقت ہوگا جب ہم اپنے ہر عمل اور قول کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالیں گے، جب ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا ، جب ہماری نظر دنیا سے زیادہ آخرت کی طرف ہو گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو کھول کر اس طرح پیش فرمایا ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یا درکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ ولابيعٌ عَنْ ذِكْرِ الله (النور : 38) جب دل خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتاہی نہیں۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہوتو خواہ وہ