خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد 11 601 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013ء یہی بتاتا ہے کہ مالی قربانیوں میں تو جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھی ہوئی ہے، بڑھ رہی ہے اور اس طرف توجہ بھی رہتی ہے لیکن نمازوں کے قیام کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے۔عبادتوں کے میعار حاصل کرنے کی ابھی بہت ضرورت ہے۔پس اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔مسجد کو آباد کریں۔قیامِ نماز اسی وقت حقیقی رنگ میں ہوتا ہے جب باجماعت نمازیں ادا کی جائیں اور مسجد کی تعمیر کی یہی غرض ہے کہ یہاں باجماعت نماز ادا ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن کو اس دنیا سے زیادہ آخرت کی زیادہ فکر ہوتی ہے۔جب انسان بڑھاپے کی عمر کی پہنچتا ہے تو بڑی فکر ہوتی ہے، روتا ہے، دعا کرتا ہے اور دعا کے لئے کہتے بھی ہیں کہ دعا کریں انجام بخیر ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومنوں کی یہ حالت عمر کے آخری حصے میں جا کر نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ ، عبادت کی طرف توجہ، اپنے دلوں کو پاک کرنے کے لئے کوشش وہ جوانی میں اور آسائش کی حالت میں بھی کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں جوانی اور آسائش میں بھی یادر ہتا ہے۔صبح شام اللہ تعالیٰ کو یا در کھتے ہیں اس لئے کہ آخرت کا خوف ہر وقت ان کے پیش نظر ہوتا ہے۔ان کے دل کانپتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ نقشہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا اور یہ حالت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں پیدا کرنے آئے ہیں۔آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: " ہمیشہ دل غم میں ڈوبتا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو بھی صحابہ کے انعامات سے بہرہ ور کرے۔ان میں وہ صدق و وفا، وہ اخلاص اور اطاعت پیدا ہو جو صحابہ میں تھی۔یہ خدا کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہ ہوں۔متقی ہوں۔کیونکہ خدا کی محبت منتقی کے ساتھ ہوتی ہے۔آنّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (البقره: 195) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 405 - مطبوعہ ربوہ) پس اگر اللہ تعالیٰ کے انعامات لینے ہیں، اپنے گھروں کو ان گھروں میں شمار کروانا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے اذن سے بلند کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گھروں کو بھی بھرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہر وقت اپنے دلوں میں رکھنے کی ضرورت ہے۔دنیا کے تمام خوف ، دنیاوی تجارتوں کے خوف، یہ تمام چیزیں اللہ کے خوف کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بارا اپنی جماعت کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تقوی پیدا کرو اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم رکھو۔آپ فرماتے ہیں کہ دنیا کے پیچھے چلنے سے ( یہ الفاظ تو میرے ہیں انہیں الفاظ میں فرمایا ) کہ دنیا کے