خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 600

خطبات مسرور جلد 11 600 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم نومبر 2013 ء توجہ بھی پیدا ہوتی ہے۔جو یہاں رہنے والے لوگ ہیں وہ اس مسجد کا حق ادا کر نے والے ہوتے ہیں۔افراد جماعت کو اس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ ہم نے یہ حق ادا کرنا ہے۔مسجد کا حق کیا ہے؟ سب سے پہلا حق تو یہی ہے کہ تمہاری تجارتیں ، تمہارے کاروبار، تمہاری مصروفیات تمہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دُور کرنے والی نہ ہوں بلکہ نمازوں اور ذکر کی طرف یہ تجارتیں بھی تمہیں توجہ دلانی والی ہوں۔جب حَيَّ عَلَى الصَّلوة کی آواز آئے کہ اے لوگو! نماز کی طرف آؤ تو کاروبار بھول جاؤ ، سب تجارتیں بھول جاؤ اور مسجد کی طرف دوڑو۔اب یہ بھی اس زمانے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہمارے تو فاصلے بہت ہیں۔اذان بھی اندر ہوتی ہے آواز تو نہیں آتی۔اور جس آواز میں آج اذان دی گئی ہے یہ تو اتنی ہلکی آواز تھی کہ ہال میں بھی مشکل سے آتی تھی۔تو اس کے لئے پھر کیا کیا جائے ؟ تو اس کے لئے تو آپ کو ویسے ہی احساس دلاتے رہنا چاہئے کہ ہم نے مسجد اس لئے بنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں۔اپنے مقصد پیدائش کو پہچا نہیں۔دوسرے میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ آجکل ہر ایک موبائل فون جیب میں ڈالے پھرتا ہے تو پھر اس کا بہترین استعمال کریں کہ نمازوں کے اوقات میں اذان کی آواز میں ہی الارم بج جائے۔اور جو قریب ترین ہیں وہ مسجد میں آئیں اور جو دُور ہیں وہ اپنی نمازیں ادا کرنے کی طرف توجہ کریں۔اپنے کاموں کی جگہ پر جب آپ نمازوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کر رہے ہوں گے تو اردگر دلوگوں کو توجہ پیدا ہو گی کہ تم کون ہو؟ پھر مسجد کی عمارت کا تعارف ذریعہ بن جائے گا۔آپ اپنے دوستوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دیں گے اور یوں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی ہو رہا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا پیغام غیروں کو پہنچانے کا سلسلہ بھی ساتھ شروع ہو جائے گا۔اور اس طرح پھر نیکیوں کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا بھی بنائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انقلاب بھی اپنے صحابہ میں پیدا کیا تھا۔اور یہ مثال اللہ تعالیٰ ان آیات میں اُن لوگوں کی ہی دے رہا ہے جو آپ کے صحابہ تھے کہ یہ کروڑوں کا کاروبار بھی کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دل بھرے رہتے تھے۔نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ رہتی تھی ، مالی قربانیوں کی طرف توجہ رہتی تھی اور یہی انقلاب پیدا کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیجا ہے کہ اپنے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرو۔اپنی نمازوں کی حفاظت کرو، اپنے اموال کے تزکیہ کے لئے ، اس کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانیاں دو۔میں اکثر کہتارہتا ہوں اور جماعت کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے افراد جماعت کا رویہ بھی ہمیں