خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 594

خطبات مسرور جلد 11 594 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء مسجدوں کی آبادی کی طرف بھی اسی جذبے سے مستقل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا یہ مسجد جو آپ نے بنائی ہے بڑی خوبصورت ہے۔منارہ ہے، گنبد بھی ہے، باہر سے بہت خوبصورت لگتے ہیں۔مسجد کا جو مسقف حصہ ہے ، covered area ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی بڑا ہے۔اور ہال کا بھی میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، یہاں ہال بھی ہے۔پہلا، پرانا ہال ہے، اس کو بھی رمینوویٹ (renovate) کر کے بڑا خوبصورت بنا دیا ہے۔اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں ہال ملا کے اب یہاں تقریباً ایک ہزار نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں۔لیکن میرا خیال ہے اس وقت آپ شاید پانچ چھ سو کی تعداد میں یہاں ہوں گے، اور اس لحاظ سے بہت گنجائش موجود ہے۔اور آپ کو یہ مسجد شاید بڑی لگ رہی ہو۔آج تو سڈنی سے بھی اور باقی جگہوں سے بھی شاید کچھ لوگ آئے ہوں ،اس لئے مسجد بھری ہوئی ہے۔لیکن اگر یہاں کی لوکل آبادی ہو تو شاید مسجد تھوڑی سی خالی بھی نظر آئے۔بہر حال میری دعا ہے کہ یہ تعداد بڑھے اور مقامی لوگوں سے یہ مسجد بھر جائے اور تھوڑی پڑ جائے۔لیکن ہماری حقیقی خوشی اُس وقت ہوگی جب پاکستان سے آنے والے احمدیوں سے نہیں بلکہ مقامی باشندوں سے یہ مسجد بھرے اور نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔لیکن یہ خواہش اور یہ کام تبلیغ کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔پس تبلیغ کی کوشش اور اس کے لئے دعا کو بڑھا ئیں۔کوشش بھی بڑھنی چاہئے اور دعا کی طرف توجہ بھی ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ مسجد جلد چھوٹی پڑ جائے اور مزید مسجدیں بنتی چلی جائیں۔یہ مسجد اس علاقے میں آپ کی انتہا نہیں ہے بلکہ یہ پہلا قدم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ مسجد سے اسلام کا تعارف ہوتا ہے اور لوگوں کی توجہ پیدا ہوتی ہے اسلام کی طرف۔ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 93۔مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ کرے کہ مقامی لوگوں میں جلد سے جلد اس طرف توجہ پیدا ہوا اور انشاء اللہ تعالیٰ امید ہے کہ ہوگی۔دنیا میں جہاں بھی ہماری مساجد بنی ہیں اسلام کا تعارف کئی گنا بڑھا ہے۔پس پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ اس لحاظ سے بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کہ اس تعارف کی وجہ سے آپ کی طرف اردگرد کے لوگوں کی نظر پہلے سے زیادہ گہری پڑے گی۔آپ جو پاکستان سے آئے ہیں ، اس لئے کہ وہاں آزادی سے مسجدوں میں عبادت نہیں کر سکتے تھے ، اس لئے آئے ہیں کہ آزادی سے اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے ، احمدی مسلمان ہونے کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔پس یہاں اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر کے اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر حاصل کرنے والے بنیں کہ لوگوں کو اسلام کا خوبصورت پیغام پہنچا ئیں۔آپ کا