خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 54

خطبات مسرور جلد 11 54 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء بچھی ہوئی ہیں۔سامنے ایک میز بھی پڑی ہے۔میں نے اُن (یعنی دو مہمان جو آئے تھے ) کو کرسیوں پر بٹھا دیا۔خواب میں چھوٹی ہمشیرہ کو کہا کہ اُن کے لئے چائے تیار کرو۔وہ کوٹھے پر ایندھن لینے کے لئے گئی (اُس زمانے میں جو طریقہ تھا، گیس وغیرہ تو ہوتی نہیں تھی۔لکڑیاں یا جو بھی جلانے کی چیزیں او پر پڑی ہوتی تھیں، وہ لینے گئی ) تو سیڑھیوں میں ہی تھی کہ ایک سیاہ رنگ کا اچھے قد و قامت کا سانڈ اندر آیا اور اُن آدمیوں کو دیکھ کر فورا واپس ہو گیا اور سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔میں نے شور ڈال دیا کہ میری ہمشیرہ کو مار دے گا۔شور سن کر پہلے سیاہ داڑھی والے مہمان اٹھنے لگے ہیں مگر سرخ داڑھی والے نے کہا کہ چونکہ یہ کام آپ نے میرے سپر د کیا ہوا ہے اس لئے یہ میرا کام ہے۔چنانچہ وہ گئے۔میں بھی پیچھے ہولیا۔ہمشیرہ دیوار کے ساتھ لگ گئی۔اُسے کچھ خراش لگی ہے مگر زخم نہیں لگا۔ہم اوپر چلے گئے۔سانڈ ہماری مغربی دیوار پر انجن کی شکل میں تبدیل ہو گیا ( اُس کی شکل بدل گئی اور دیوار پر آگے پیچھے چلنے لگا۔جب دیوار کے آخری کونے پر پہنچا تو اس مہمان نے سوٹا مارا اور پیچھے کی طرف گر کر چور چور ہو گیا۔ہم واپس آگئے اور وہ مہمان پھر کرسی پر بیٹھ گئے اور چائے پی۔مجھے بھی انہوں نے پلائی۔چائے پینے کے بعد کچھ دیر وہ بیٹھے رہے، باتیں کرتے رہے۔پھر کہنے لگے کہ برخوردار ہمیں دیر ہو گئی ہے، اجازت دو تا کہ ہم جائیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے بتا ئیں تو سہی کہ آپ کون ہیں؟ تا میں اپنے والد صاحب کو بتا سکوں۔میری اس عرض پر وہ دونوں خفیف سے مسکرائے۔کالی داڑھی والے نے کہا کہ میرا نام محمد ہے اور ان کا نام احمد ہے۔میں نے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا کہ پھر مجھے کچھ بتائیں۔انہوں نے عربی زبان میں ایک کلمہ کہا جو مجھے یاد نہ رہا مگر اُس کا مفہوم جو اُس وقت میرے ذہن میں تھا وہ یہ تھا کہ تیری زندگی کے تھوڑے دن بہت آرام سے گزریں گے۔پھر میں نے مصافحہ کیا، انہوں نے کہا کہ اپنے باپ کو ہمارا السلام علیکم کہہ دینا۔وہ باہر نکل گئے۔میں نے اُن کو رخصت کیا۔اُن کے جانے کے بعد خواب میں ہی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب آگئے۔( خواب ابھی چل رہی ہے) میں نے سارا قصہ سنایا۔وہ فوراً باہر گئے۔اتنے میں کہتے ہیں میری آنکھ کھل گئی جس کا باعث یہ ہوا کہ میرے باپ نے آواز دی کہ اٹھو اور نماز پڑھو۔میں نے اپنے والد صاحب کو یہ خواب سنائی۔اُس دن جمعہ تھا۔جمعہ کے وقت میں نے منشی احمد دین صاحب اپیل نو لیس کو وہ خواب سنائی۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں خود لکھ کر یا مجھ سے لکھوا کر بھیج دی۔چند روز کے بعد کہا کہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ جلسہ پر اس لڑکے کو ساتھ لے کر آؤ۔چنانچہ جلسہ پر میں گیا۔جب ہم مسجد مبارک میں گئے تو دو تین بزرگ بیٹھے تھے۔ہم نے اُن سے مصافحہ کیا۔اتنے میں حضرت اقدس