خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 589

خطبات مسرور جلد 11 589 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25اکتوبر 2013ء لطف بھی حاصل ہوتا ہے۔پھر ایک مومن کی اس عمل پر حکم کرنے کی کوشش کہ وَآقِیمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُل مَسْجِدٍ یعنی اور تم ہر مسجد میں اپنی تو جہات اللہ تعالیٰ کی طرف سیدھی رکھو، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والا بھی بنائے گی۔اُن لوگوں میں شامل کرے گی جو یہ مقام حاصل کرتے ہیں۔اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ہماری ہر کوشش پر اللہ تعالیٰ کا ایک فعل بھی ہوتا ہے۔اور ہم کسی نیکی کو اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتے اور اگر اللہ تعالیٰ کا فعل ہمارے کسی عمل کے ساتھ شامل نہ ہو اور اس کے شامل ہو کر ہمیں نیکی کے اعلیٰ نتائج حاصل کرنے والا نہ بنائے تو وہ ہم نیکی حاصل ہی نہیں کر سکتے۔پس ہماری نیک خواہشات اور ہمارے ہر معاملے میں نیک عمل کی کوشش وہی ہے جو ہماری تو جہات اللہ تعالیٰ کی طرف سیدھی رکھنے والا بنائے گی اور اس کے ساتھ جب عبادتیں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول بھی کرے تو پھر وہ حقیقی عبادت بن جاتی ہے اور ہم اس قابل ہوں گے کہ پھر اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جو وَ ادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کا گروہ ہے۔اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جو دین کو اُس کے لئے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے اُسے پکارتے ہیں اور جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کو پکارنے والے ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ کا یہ روشن پیغام راستے دکھا رہا ہے کہ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة : 187 ) کہ جب دعا کرنے والے مجھے پکارتے ہیں تو میں : اُن کی دعا قبول کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے۔اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 21۔مطبوعہ ربوہ ) پس انسان کا خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کو پکارنا اُس وقت کہلاتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی تمام قسم کی حدود کا بھی خیال رکھے۔اور ان حدود کا پتہ چلتا ہے جب ہم قرآنِ کریم کا مطالعہ کرتے ہیں اور اُس میں سے خدا تعالیٰ کے احکامات تلاش کر کے اُن کو نکالتے ہیں۔یہ احکامات ہی وہ حدود ہیں جن کے اندر رہ کر انسان پھر خدا تعالیٰ کا قرب پاتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے نشان دیکھتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی آدم ! ہر مسجد میں اپنی زینت ساتھ لے جایا کرو۔ایک مومن کی زینت اُس کا تقویٰ کا لباس ہے۔پس یہاں اُن حدود کی مزید وضاحت ہو گئی جو ایک مومن