خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 588
خطبات مسرور جلد 11 588 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جماعت کو ایک وجود بنایا ہے۔پس ایک وجود کا معیار اس وقت قائم ہوسکتا ہے جب دوسرے کی تکلیف کا احساس ہو، اُس کے حق کی ادائیگی کی طرف توجہ ہو۔جب انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔جس طرح جسم کے کسی حصہ کو تکلیف ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے، اسی طرح دوسرے کی تکلیف کا احساس ہمیں ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ دوسرے کی تکلیف کا احساس کرو اور یہ ہم جب دنیا کو بتاتے ہیں کہ انصاف اس طرح قائم ہوتا ہے، جب باتیں سناتے ہیں کہ یہ انصاف کس طرح قائم ہونا چاہئے ، اسلام کیا کہتا ہے اور دنیا والے یہ باتیں سن کر بڑے متاثر ہوتے ہیں تو اس کے نیک نمو نے بھی ہمیں دکھانے ہوں گے۔یہ بتانا ہوگا کہ یہ پرانی تعلیم نہیں ہے بلکہ یہ حقیقی مومنین کا موجودہ عمل بھی ہے۔پرسوں یہاں غیروں کے ساتھ ، مقامی آسٹریلین باشندوں کے ساتھ مسجد کی افتتاحی تقریب ہوئی تھی تو جو باتیں میں نے کیں وہ اس بات کے ارد گرد ہی گھوم رہی تھیں کہ اگر انسانوں کے حقوق کی ادائیگی میں انصاف نہیں اور اس کا باریکی سے احساس نہیں تو عبادتیں بھی بیچ ہیں، بے فائدہ ہیں۔اور اگر یہ ادا ئیگی ہو رہی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہر عمل عبادت بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والی عبادت کے حسن کو مزید نکھار دیتا ہے۔پس وہ مسلمان جس کے نزدیک نمازوں کی بڑی اہمیت ہے، عبادت کی بڑی اہمیت ہے، وہ اس تلاش میں بھی ہمیشہ رہے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ بھی انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے والے تعلقات رکھوں۔اور ایک احمدی اس حکمت کی بات کوسب سے زیادہ سمجھ سکتا ہے اور جانتا ہے۔کیونکہ اُس نے زمانے کے امام کو قبول کیا ہے، زمانے کے امام کی بیعت میں آیا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹ سکے۔تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر سکے، تا کہ اپنے مقصد پیدائش کو پہچان سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : "نوع انسان پر شفقت اور اس سے 66 ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 438 - مطبوعہ ربوہ ) پس یہ وہ خوبصورت تعلیم ہے جو جہاں انصاف کے تقاضے پورے کرتی ہے، وہاں خدا تعالیٰ کا قرب بھی دلاتی ہے۔اور جب انسان مخلوق کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حق خالص ہو کر ادا کرنے کے لئے مسجد میں جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے پیار کی آغوش میں آ جاتا ہے۔پھر عبادت کا حقیقی