خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 587
خطبات مسرور جلد 11 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء اپنی پانچ وقت کی نمازوں کی حفاظت کریں گے۔جب قیام نماز کی طرف توجہ ہوگی۔جب ان نمازوں کے ساتھ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا ہو گی۔جب نمازوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مخلوق بھی حق ادا کرنے کی کوشش ہو رہی ہوگی۔مخلوق کے جو حق ہیں ، مثلاً خاوند کو حکم ہے کہ بیوی کے حق ادا کرو۔اُن کی ضروریات کا خیال رکھو۔ان سے نرمی اور ملاطفت سے پیش آؤ۔اُن کے رحمی رشتوں کا خیال رکھو۔بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائی اور دوسرے رشتوں کا احترام کرو۔بیویوں کے مال پر اور اُن کی کمائی پر نظر نہ رکھو۔بچوں کے حق ادا کرو، اُن کی تعلیم تربیت کی طرف توجہ کرو۔اپنے نمونے دکھاؤ کہ وہ دین کی اہمیت کو سمجھیں اور دین سے مجھے رہیں۔ہمیشہ یا درکھیں لڑکے اُس وقت خاص طور پر جب تیرہ چودہ سال کے ہو جا ئیں عموماً دین کا احترام کرتے ہیں جب وہ دیکھیں کہ اُن کا باپ بھی دین کا احترام کرنے والا ہے۔اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔نمازوں کا پابند ہے۔قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے کا پابند ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ عموماً ماؤں کو اپنے بچوں کی دین کی زیادہ فکر ہوتی ہے یا کم از کم اظہار ضرور میرے سامنے ہوتا ہے۔دعا کے لئے کہتی ہیں۔اسی طرح ہر عورت جو ہے، ہر بیوی جو ہے، ان کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے انصاف کرنا ہوگا۔اپنے گھر کے فرائض ادا کریں۔سب سے پہلی ذمہ داری عورت کی گھر کی ذمہ داری ہے، اس کو سنبھالنا ہے۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔خاوند کے احترام کے ساتھ اُس کے رحمی رشتہ داروں کا بھی احترام کریں۔بچوں کی تربیت اور نگرانی کریں۔اس ماحول میں خاص طور پر بچوں کی تربیت کی ماں باپ کو بہت فکر ہونی چاہئے اور توجہ کی ضرورت ہے۔اور یہ دینی تربیت ماں اور باپ دونوں کا کام ہے۔بچوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ تم احمدی مسلمان ہو، اور اس کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو احمدی مسلمان ثابت کرنا ہوگا۔یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ تمہاری کیا ذمہ داریاں ہیں؟ سب سے پہلے ماں باپ کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ تم میں اور دوسروں میں ایک فرق ہونا چاہئے۔بچوں کی جب اس نہج پر تربیت ہوگی تو تبھی بچے دین سے مجڑے رہیں گے۔اور یہی چیز ہے جو بچوں کا حق انصاف سے ادا کرنے والی بناتی ہے۔اگر ماں باپ اپنے عملی نمونے نہیں دکھا رہے، اگر بچوں کی تربیت کی طرف توجہ نہیں ہے تو پھر انصاف نہیں کر رہے۔پھر معاشرے کے عمومی تعلقات ہیں۔یہاں بھی ہر مرد اور عورت جو اپنے آپ کو مومنین میں شمار کرتا ہے یا کروانا چاہتا ہے، اُس کا یہ فرض ہے کہ ایک دوسرے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔کاروباری معاملات ہیں یا کسی بھی قسم کے معاملات ہیں، عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے ضروری ہیں۔