خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 586

خطبات مسرور جلد 11 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء جماعت احمدیہ کی خواتین کی روایت ہے، یہاں بھی اپنے زیور مسجد کے لئے پیش کئے۔اللہ تعالیٰ ان تمام قربانی کرنے والوں کو بے انتہا دے، ان کے اموال ونفوس میں برکت ڈالے۔لیکن ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قربانی، یہ محبت و اخلاص کی روح، یہ اطاعت کے نمونے ایک احمدی کے اندر کسی وقتی جذ بہ کے تحت نہیں ہوتے ، نہ ہونے چاہئیں، بلکہ ہمیشہ جاری رہنے والے نمونے اور جذبے ہیں اور ہونے چاہئیں۔اور پھر اپنے اندر ہی جاری رکھنے والے جذبے نہیں ہیں بلکہ اپنی اولادوں اور نسلوں کو منتقل کرتے چلے جانے والے جذبے ہیں۔اور یہی ایک احمدی کی حقیقی احمدی کی روح ہے اور ہونی چاہئے۔اور یہ جذبے اُسی وقت جاری رہ سکتے ہیں جب ہم خدا تعالیٰ کے حکموں پر توجہ دینے والے ہوں۔جب ہم اپنے خدا سے سچا تعلق پیدا کرنے والے ہوں۔جب ہم مسجد کا حق ادا کرنے والے ہوں۔جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت میں آنے کا حق ادا کرنے والے ہوں۔پس ہم اُس وقت اس مسجد کا حق ادا کرنے والے بن سکتے ہیں اور بنیں گے جب ہم ان باتوں کا خیال رکھیں گے، ان کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں گے۔پس آج اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان میں سے بعض حکموں کو میں آپ کے سامنے رکھوں گا تا کہ ہم اور ہماری نسلیں یہ حق ادا کرتی چلی جانے والی بن جائیں۔یہ جو آیات شروع میں میں نے تلاوت کی ہیں ،سورۃ اعراف کی آیات 30 اور 32 ہیں اور مسجد سے متعلق ہیں۔ان میں اللہ تعالیٰ نے ایک مومن سے بعض تو قعات رکھی ہیں بلکہ مومنین کو نصیحت کی ہے کہ مسجد سے منسلک ہونے والے اور حقیقی عبادت گزار ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ان پر پڑے گی۔پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انصاف کا حکم دیا ہے اور انصاف ایک ایسی چیز ہے جو معاشرے کی بنیادی اکائی ، جو گھر ہے، اس سے شروع ہو کر بین الاقوامی معاملات تک قائم ہونا انتہائی ضروری ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کے قائم ہونے سے دنیا کا امن وسکون ہر سطح پر قائم ہوسکتا ہے۔اور یہی چیز ہے جس کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں دنیا میں فتنہ وفساد پیدا ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔پھر انصاف صرف معاشرتی معاملات میں نہیں اور بندوں کے ساتھ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا حق ادا کرنا، یہ بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔عبادت کا حق ادا کرنا جس طرح کہ اُس کا حکم ہے، یہ عبادت کے ساتھ انصاف ہے۔اور اس انصاف کا فائدہ خود انسان کو ، عبادت کرنے والے کو اپنی ذات کے لئے ہو رہا ہوتا ہے۔پس ہر حقیقی مومن کو اپنے عبادت کے حق کی ادائیگی کی طرف توجہ دینی چاہئے اور یہ حق ادا ہو گا جب آپ سب