خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد 11 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25اکتوبر 2013ء جماعت پر احسان ہے کہ جماعت اور خلافت کا ایک ایسا رشتہ قائم کیا ہے جو دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتا۔یہ دراصل اُس تعلیم اور اُس عہد بیعت کا نتیجہ ہے جس پر کار بند ہونے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو تلقین فرمائی تھی۔اس محبت و اخوت واطاعت کے رشتہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی شرائط بیعت میں ذکر فرمایا ہے اور یہی محبت اور اخوت اور اطاعت کا رشتہ پھر آگے آپ علیہ السلام کے جاری نظام خلافت کے ساتھ بھی جاری ہے۔اس مسجد کی تعمیر بھی علاوہ اس بات کے کہ مساجد ہماری ضرورت ہیں اور جیسے جیسے جماعت پھیلتی جائے گی ، مساجد بھی انشاء اللہ تعالیٰ بنتی چلی جائیں گی اور بن رہی ہیں لیکن یہاں جو میں نے خلافت کی بات کی، یہ اس لئے کہ مساجد کی تعمیر خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہنے کی وجہ سے بھی دنیا میں ہورہی ہے۔عموماً دنیا میں ہر جگہ میں جماعتوں کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ مساجد کی تعمیر کریں، کیونکہ یہ تبلیغ کا ذریعہ ہیں۔اور حقیقت میں یہ بات سچ بھی ثابت ہو رہی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا یہاں بھی جب میں 2006ء میں آیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ نماز سینٹرا اپنی جگہ پر ٹھیک ہے لیکن مسجد بھی یہاں با قاعدہ مسجد کی شکل میں تعمیر ہونی چاہئے۔تو جماعت نے لبیک کہا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر کر دی۔آپ لوگوں کو مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں جو مختلف روکوں سے گزرنا پڑا،مختلف فیرز (Phases) آئے ، اس سے خود آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ مسجد کا تصور مقامی لوگوں کے ذہنوں میں کتنا مختلف ہے۔یہاں سینٹر قائم تھا، لوگ نمازیں پڑھنے کے لئے آتے تھے۔باقی جماعتی activities بھی ہوتی ہوں گی لیکن جب مسجد کے لئے منصوبہ منظوری کے لئے دیا گیا تو ہمسایوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔آخر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور مجھے جو رپورٹ ملی ہے اُس کے مطابق آٹھ نومہینوں کی کوششوں کے بعد کونسل کی طرف سے اجازت مل گئی اور یوں اس سٹیسٹ کوئنز لینڈ (Queensland) میں جماعت احمدیہ کی پہلی باقاعدہ مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا جو دسمبر 2012ء کے بعد شروع ہوا اور آج آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ خوبصورت مسجد ہے۔جو اعدادو شمار میرے پاس آئے ہیں اُس کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پر اور پہلی عمارتوں کی درستی وغیرہ پر ساڑھے چار ملین ڈالر خرچ کئے گئے اور افراد جماعت نے دل کھول کر قربانیاں دیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک دوست نے ایک لاکھ پچیس ہزار ڈالر دیئے۔ایک نے ایک لاکھ ڈالر دیئے اور ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق قربانیاں دیں بلکہ شاید اس سے بڑھ کر قربانیاں دیں۔خواتین نے جیسا کہ