خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 577

خطبات مسرور جلد 11 577 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء ادراک ہو رہا ہے۔پس یہاں کے رہنے والے احمدیوں کو بھی اور دنیا کے رہنے والے احمدیوں کو بھی ایم ٹی اے سے بھر پور استفادہ کرنا چاہئے۔ایم ٹی اے کی ایک اور برکت بھی ہے کہ یہ جماعت کو خلافت کی برکات سے جوڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔پس اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی تو اس نے اس عقل کو استعمال کر کے اپنی آسانیوں کے سامان پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عملًا (الكهف: 8) یعنی زمین پر جو کچھ ہے اُسے یقیناً ہم نے زینت بنایا ہے تا کہ ہم انہیں آزمائیں کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔پس یہاں زمین کی ہر چیز کو زینت قرار دے کر اُس کی اہمیت بھی بیان فرما دی۔ہرنئی ایجاد جو ہم کرتے ہیں اُس کو بھی زینت بتا دیا، اُس کی اہمیت بیان فرمائی لیکن فرمایا کہ ہر چیز کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن اس کا فائدہ تبھی ہے جب احسن عمل کے ساتھ یہ وابستہ ہو۔پس ہمیں نصیحت ہے کہ ان ایجادات سے فائدہ اُٹھا ؤ لیکن احسن عمل پر نظر ر ہے۔یہ ایجادات ہیں، ان کی خوبصورتی تبھی ہے جب اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کام کیا جائے یا کام لیا جائے ، نہ کہ فتنہ وفساد پیدا ہو۔اگر احسن عمل نہیں تو یہ چیز میں ابتلا بن جاتی ہیں۔جیسا کہ پہلے میں نے مثالیں دیں۔یہ ٹیلی ویژن ہی ہے جو فائدہ بھی دے رہا ہے اور ابتلا بھی بن رہا ہے۔بہت سے گھر انٹرنیٹ اور چیٹنگ کی وجہ سے برباد ہو رہے ہیں۔بچے خراب ہو رہے ہیں اس لئے کہ آزادی کے نام پر اللہ تعالیٰ کی مہیا کی گئی چیزوں کا ناجائز فائدہ اُٹھایا جارہا ہے۔حقیقی عبد کے لئے حکم ہے کہ ہمیشہ احسن قول اور احسن عمل کو سامنے رکھو اور کام کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔بہر حال قرآنِ شریف کے بے شمار حکم ہیں ہر حکم کی تفصیل یہاں بیان نہیں ہو سکتی۔ایک بات ہے جس کی طرف میں توجہ دلا نا چاہتا ہوں اور اس بارے میں شروع میں بھی میں کچھ کہ آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے جو احسن قول کے بارے میں ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کو یہ بہت پسند ہے، فرمایا کہ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مَن دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ( حم السجدة :34) اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور اپنے ایمان کے مطابق عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس یہ خوبصورت تعلیم اور بات ہے جو ایک حقیقی بندے سے جس کی توقع کی جاتی ہے، کی جانی چاہئے۔جو آیت میں نے شروع میں تلاوت کی تھی اُس میں فرمایا تھا که يَقُولُ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کہ ایسی بات کیا کرو جو سب سے اچھی ہو۔اور سب سے اچھی وہ باتیں ہیں