خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد 11 52 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء جب یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنائی گئی تو حضور نے فرمایا کہ ملکہ مسلمان نہیں ہوگی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر 10 صفحہ 355 از روایات حضرت شیخ عطا محمد صاحب سابق پٹواری و جواں) میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل صاحب روایت کرتے ہیں، (اُن کی بیعت 1892ء کی ہے ) کہ چوہدری عبد الرحیم صاحب ابھی غیر احمدی ہی تھے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھڑی مرمت کے لئے میرے پاس آئی ہے۔کہتے ہیں چنانچہ اتفاق سے میں نے ( یعنی میاں مغل صاحب نے ) یہ گھڑی اُن کو مرمت کے لئے دی۔( یہ وہ گھڑی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گھڑی تھی اور حضرت اماں جان نے ان کو دی تھی۔جس شخص نے خواب دیکھی وہ غیر احمدی تھے۔اُس وقت احمدی نہیں ہوئے تھے، انہوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھڑی اُن کے پاس مرمت کے لئے آئی ہے۔کچھ عرصہ کے بعد مغل صاحب نے ایک گھڑی مرمت کے لئے، ان صاحب کو دی جنہوں نے خواب دیکھی تھی۔جب انہوں نے وہ گھڑی کھولی تو مرمت کرنے والے کہنے لگے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھڑی ہے۔بالکل وہی نقشہ ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 19 از روایات حضرت میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل ) حضرت امیر خان صاحب جن کی 1903ء کی بیعت ہے، فرماتے ہیں کہ 1902ء میں میں نے خواب کے اندر مسجد مبارک کو ایک گول قلعہ کی شکل میں دیکھا جس کے اندر بہت سی مخلوق تھی اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک سرخ جھنڈی تھی۔اور اُن میں سے ایک شخص جو سب سے بزرگ تھا، وہ اوپر کی منزل میں تھا۔اُس کے ہاتھ میں ایک بہت بڑا سرخ جھنڈا تھا کسی نے مجھے کہا کہ آپ جانتے ہیں یہ کون ہے؟ میں نے کہا میں تو نہیں جانتا۔تب اُس نے کہا یہ تیرا کا بل کا بھائی ہے۔اس قلعہ کے برجوں میں ایسے سوراخ تھے کہ جن سے بیرونی دشمن پر بخوبی نشانہ لگ سکتا تھا مگر باہر والوں کا بوجہ اوٹ کے کوئی نشانہ نہیں لگ سکتا تھا اور قلعہ کے باہر گردو غبار کا اس قدر دھواں تھا کہ مشکل سے آدمی پہچانا جاتا تھا۔اور گدھوں، خچروں اور اونٹوں کی آوازوں کا اس قدر شور تھا کہ مارے دہشت کے دل بیٹھا جاتا تھا۔جب میں قلعہ سے باہر نکلا ( یہ خواب بیان فرمارہے ہیں ) تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر طرف مردے ہی مُردے پڑے ہیں جن کو اُٹھا اُٹھا کر قلعہ میں لایا جا رہا ہے۔جب میں قلعہ سے ذرا دور فاصلے پر چلا گیا اور شور وغل نے مجھے پریشان سا کر دیا تو میں گھبرا کر قلعہ کی طرف فوراً لوٹا اور قلعہ میں داخل ہونے کے لئے دروازے کی تلاش کرنے لگا مگر کوئی دروازہ نہ ملا۔میں اسی تلاش میں تھا کہ اتنے میں میں نے ایک شخص مسکین صورت ، نیک سیرت کو دیکھا۔