خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد 11 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء ( یعنی چند گھنٹوں کے اندر اندر خواب پوری بھی ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو تو فیق بھی دی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آجائیں۔) حضرت محمد فاضل صاحب ولد نور محمد صاحب، 1899 ء کی ان کی بیعت ہے، کہتے ہیں کہ ایک دن گھر میں تھا ، مولوی شیخ محمد ( ان کا کوئی مولوی تھا) غیر مقلد جو میرا سالا تھا، ملنے کے لئے آیا اور اُنہوں نے مجھے ایک رسالہ دیا جس کا نام شہادۃ القرآن على نزول مسیح الموعود فی آخر الزمان تھا۔رات کا وقت تھا، مجھے شوق ہوا کہ کب دن ہوا اور میں اُسے پڑھوں۔جب صبح ہوئی تو میں نے نماز سے فارغ ہو کر ایک علیحدہ کوٹھڑی میں چار پائی پر لیٹ کر رسالے کو پڑھنا شروع کیا تو کوئی تین صفحے پڑھے ہوں گے کہ مجھے غنودگی ہوگئی۔میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سرہانے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آ کر بیٹھ گئے ہیں اسی چار پائی پر اور اپنے دہن مبارک سے اپنے لعاب نکال کر میرے منہ میں ڈالتے ہیں اور اپنے ہاتھ سے ڈالتے ہیں تو میں اُس کو گھونٹ کی طرح نگل گیا۔اُس وقت مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ میرے دل سے فوارے نکل رہے ہیں اور سرور سے سینہ بھر گیا۔پھر میں بیدار ہو گیا۔اس سے میرے دل میں یقین زیادہ ہو گیا اور محبت کی آگ بہت تیز ہوگئی۔اور میرے قلب میں اضطراب اور عشاق جہاں جاتا رہا، اضطراب جاتا رہا اور جب بھی میں اکیلا چلتا اکثر میری زبان پر یہ شعر جاری ہوتا۔پھرتا ہوں تجھ بن صنم ہو کے دیوانہ ہو بہو شهر به شهر دیهه به دیهه خانه خانہ کو یہ گو (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 231-230 از روایات حضرت محمد فاضل صاحب) یہ کتاب ”شہادۃ القرآن“ جس کا یہ ذکر کر رہے ہیں۔اُس میں کسی اعتراض کرنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ اعتراض کیا تھا کہ حدیثوں سے کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں۔حدیثیں تو بعض اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اُن پر یقین کیا جائے۔تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب لکھی تھی اور تمام شبہات دور فرمائے۔اُس شخص کی تو تسلی نہیں ہوئی لیکن بہر حال اُس کی اس کتاب سے بہتوں کا فائدہ ہو گیا۔حضرت شیخ عطاء محمد صاحب سابق پٹواری و نجواں بیان کرتے ہیں کہ خواب آیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام بٹالہ کی سڑک پر ٹہلتے ہیں جو تحصیل کے محاذ میں ہے۔( یعنی سامنے ہے۔) حضور نے مجھ کو ایک روپیہ دیا اور ملکہ کی تصویر پر کر اس لگا دیا، کانٹا پھیر دیا، خط کھینچ دیا اور فرمایا کہ اس کو خزانے میں دے آؤ۔