خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 564

خطبات مسرور جلد 11 564 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو آپ کے شانہ بشانہ چلنا چاہئے اور ان مقاصد میں آپ کی معاونت کرنی چاہئے۔میں بحیثیت صدر مملکت یہاں آیا ہوں کہ آپ کی ان خدمات پر مبارکباد پیش کر سکوں اور بتا سکوں کہ آپ کی دیرینہ خدمات پر میں اور میرے ملک کے لوگ خوش ہیں اور ہم جماعت احمدیہ کے ممنون ہیں۔اب عربوں میں سے تیل کے پیسے والے تو یہاں آئے نہیں لیکن جماعت کا جب یہ اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اس کو دیکھ کر اب بعض حکومتوں کے نمائندے وہاں جانے شروع ہوئے ہیں کہ ہم تمہارے لئے سکول بھی کھولیں گے اور ہسپتال بھی کھولیں گے اور کالج بھی کھولیں گے اور پھر مدد بھی دیں گے۔بہر حال اللہ کرے کہ ان لوگوں کی انصاف کی آنکھ جو ہے وہ کھلی رہے اور کبھی بے انصافی نہ کریں۔پھر قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرنے کے اظہار پر غیروں کی طرف سے تبصرہ اس طرح ہے۔سیرالیون پیپلز پارٹی کے سابق نیشنل چیئر مین الحاج نے اپنی تقریر میں جماعت احمدیہ کے باونویں جلسہ سالانہ کے انعقاد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جلسہ سالانہ یو کے میں بھی کافی دفعہ شرکت کر چکا ہوں۔اور وہاں لوگوں کی اعلیٰ کوالٹیز (qualities) اور اسلامی تعلیمات پر کار بند ہونے سے بھی آگاہ ہوں۔ان باتوں سے جو میں نے اندازہ لگایا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کا مستقبل جماعت احمدیہ ہی کے ذریعہ روشن ہوگا اور اس بات کا ثبوت ہم دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہو سکتے تو اپنی کم علمی کی وجہ سے جماعت کی ترقی اور تعلیمات کے بارے میں اپنے غلط خیالات کا اظہار تو نہ کریں۔اس جلسہ کا تھیم (Theme) اور جلسہ گاہ میں لگائے ہوئے پوسٹرز کو دیکھیں تو ان عبارات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے ہی افراد ہیں۔میں اس بات کا برملا اظہار کروں گا کہ جو بھی جلسہ سالانہ میں شامل ہوگا وہ اس بات کا اظہار کرنے سے نہیں رہ سکتا کہ اسلام کا روشن مستقبل صرف جماعت احمدیہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔پس یہ ہے حسن جماعت احمدیہ کا اور یہ ہونا چاہئے کہ غیر بھی اقرار کریں کہ حقیقی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کے اُسوہ پر عمل کرنے کی کوشش احمدی کرتے ہیں۔سپین سے عائشہ بوتر ساس صاحبہ کہتی ہیں، مجھے انہوں نے خط لکھا ہے کہ میں اپنے احمدی خاوند کے ساتھ اپنے سسرال کے ساتھ رہتی ہوں جو سب غیر احمدی ہیں۔وہ آپس میں بیٹھے ہوئے مجلس میں جب چغلی کرتے ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے اور میں اُن میں بیٹھنا پسند نہیں کرتی۔اسی طرح جب سے میں نے بیعت کی ہے، مردوں سے ہاتھ ملانا چھوڑ دیا ہے اور غیر مردوں کی مجلس میں بیٹھنا بھی ترک کر دیا ہے۔یہ