خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 11 50 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کیا اپنے بیٹے کی فکر نہیں ہوگی ؟ (حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی طرف اشارہ ہے۔اس بات پر ان کو مزید یقین پیدا ہوا کیونکہ اُس زمانے میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خلافت پر کافی فتنہ تھا)۔حضرت میاں میراں بخش صاحب ٹیلر ماسٹر بیان کرتے ہیں (1900ء کی ان کی بیعت ہے ) کہ بیعت کی تحریک اس طرح پیدا ہوئی تھی کہ ہمارے بھائی غلام رسول صاحب ہم سے پہلے احمدی ہو چکے تھے مگر ان پڑھ تھے۔میں جب دوکان سے اپنے گھر کی طرف جاتا تھا تو راستے میں اُن سے ملا کرتا تھا۔اُن کے ساتھ سلسلے کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔میں چونکہ مخالف تھا اس لئے اُن کو جھوٹا کہا کرتا تھا۔لیکن جب گھر آ کر سوچتا تو نفس کہتا کہ گو یہ ان پڑھ ہے مگر ان کی باتیں لا جواب ہیں۔ایک دفعہ میرے بھائی نے مجھے کچھ ٹریکٹ دیئے جو میں نے پڑھے، اُن کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا۔اس پر میں نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا شروع کر دی۔ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنی چار پائی سے اُٹھ کر پیشاب کرنے گیا ہوں مگر دیکھتا ہوں کہ کھڑ کی کھلی ہے۔میں حیران ہوا کہ آج یہ کھڑ کی کیوں کھلی ہے۔میں جب کھڑکی کی طرف گیا تو دیکھا کہ ایک بزرگ ہاتھ میں کتاب لئے پڑھ رہے ہیں۔میں نے سوال کیا کہ یہ کونسی کتاب ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے اور ہم تمہارے لئے ہی لائے ہیں۔جب انہوں نے کتاب دی تو میں نے کہا کہ یہ تو چھوٹی تختی کی کتاب ہے۔میں نے اُن کے ٹریکٹ دیکھے ہیں وہ تو بڑی تختی کے ہوتے ہیں۔وہ بزرگ بولے کہ مرزا صاحب نے یہ کتاب چھوٹی تختی کی چھپوائی تھی۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔میں نے خیال کیا کہ شاید رات کو میں دعا کر کے ان خیالات میں سویا تھا، یہ اُن کا ہی اثر ہوگا۔مگر جب میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے اپنے گھر کی طرف آیا تو غلام رسول کی دوکان پر ایک شخص بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔میں نے کہا یہ کونسی کتاب ہے جو پڑھ رہے ہو؟ میاں غلام رسول صاحب نے اُس کے ہاتھ سے کتاب لے کر میرے ہاتھ میں دے دی اور کہا کہ تم جو کتاب مانگتے تھے یہ کتاب آپ کے لئے ہی میں لایا ہوں، یہ آپ لے لیں۔میں نے کتاب کو دیکھ کر کہا کہ یہ کتاب رات خواب میں مجھے مل چکی ہے۔اس پر میں نے ازالہ اوہام کے دونوں حصوں کو غور سے پڑھا اور اپنے دل سے سوال کیا کہ اب بھی تمہیں کوئی شک وشبہ باقی ہے۔میرے دل نے جواب دیا کہ اب کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہا۔اس لئے میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحه 117-118 از روایات میاں میراں بخش صاحب ٹیلر ماسٹر )