خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 546
خطبات مسرور جلد 11 546 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2013ء یہی نئی زمین اور آسمان پیدا کرنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تھے۔پس اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے نفس پر قابور رکھنے والا ہو تو جہاں ہم اپنے تعلقات میں، محبت اور پیار میں بڑھنے والے ہوں گے وہاں تبلیغ کے بھی کئی راستے کھولنے والے ہوں گے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ آپس میں ذرا ذراسی بات پر لڑائی اور جھگڑا شروع کر دیتے ہیں اور جلسوں پر بھی ایسے واقعات ہو جاتے ہیں اور یہ سب باتیں جلسہ کے تقدس کو خراب کر رہی ہوتی ہیں۔یہاں سے بھی مجھے شکایتیں آتی رہی ہیں کہ باہر نکلے، پارکنگ میں گئے ،لڑائیاں ہو گئیں، پرانے جھگڑے تھے، خاندانی جھگڑے تھے یا کاروباری جھگڑے تھے اُس پر لڑائیاں ہو گئیں اور ایک جلسہ کا جو تقدس تھا، جو ماحول تھا اُس کو خراب کر دیا۔یا نکلتے ہی بھول گئے کہ ہم کیا کرنے آئے تھے اور کیا کر کے جا رہے ہیں۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف غیروں کے سامنے صبر اور برداشت کی تلقین نہیں فرمائی ہے کہ غیروں کے سامنے صبر اور برداشت کرو بلکہ آپس میں بھی قرآن کریم فرماتا ہے رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح : 30) کہ رحم اور محبت کو اپنے آپ میں بھی رائج کرو اور پہلے سے بڑھ کر کرو، دوسروں سے بڑھ کر کرو۔اس کی بہت زیادہ تلقین فرمائی گئی ہے۔اس لحاظ سے بھی ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔پھر وہ لوگ جو آپ کی جماعت میں شامل ہو کر آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کو بشارت دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: ”اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (آل عمران : 56) تسلی بخش وعده ناصرہ میں پیدا ہونے والے ابن مریم سے ہوا تھا۔“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوا تھا۔مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے۔اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اتارہ کے درجہ میں پڑے ہوئے فسق و فجور کی راہوں پر کار بند ہیں؟ نہیں، ہر گز نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے ، تو یا درکھو اور دل سے سن لو میں ایک بار پھر ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہیں، بلکہ بہت زبر دست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر نہ صرف میری ذات تک ) بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہے جس نے مجھے بھی اس برگزیدہ انسان کامل کی ذات تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور