خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 547
خطبات مسرور جلد 11 547 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2013ء راستی کی روح لے کر آیا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ذات تک پہنچتا تو مجھے کچھ بھی اندیشہ اور فکر نہ تھا اور نہ ان کی پروا تھی۔مگر اس پر بس نہیں ہوتی۔اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خود خدائے تعالیٰ کی برگزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔پس ایسی صورت اور حالت میں تم خوب دھیان دے کر سن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزو رکھتے ہو اور اتنی بڑی کامیابی ) کہ قیامت تک مکفرین پر غالب رہو گے ) کی سچی پیاس تمہارے اندر ہے تو پھر اتنا ہی میں کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اُس وقت تک حاصل نہ ہوگی جب تک تو امہ کے درجہ سے گزر کر مطمئنہ کے مینار تک نہ پہنچ جاؤ۔اس سے زیادہ اور میں کچھ نہیں کہتا کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے ساتھ پیوند رکھتے ہو جو مامورمن اللہ ہے۔پس اس کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاؤ تا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اقرار کے بعد انکار کی نجاست میں گر کر ابدی عذاب خرید لیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 64-65۔مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو یقین سے اپنا ہاتھ دعا کے لئے اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعارڈ نہیں کرتا ہے۔پس خدا سے مانگو اور یقین اور صدق نیت سے مانگو۔میری نصیحت پھر یہی ہے کہ اچھے اخلاق ظاہر کرنا اپنی کرامت ظاہر کرنا ہے۔اگر کوئی کہے کہ میں کراماتی بنا نہیں چاہتا تو یہ یادر کھے کہ شیطان اسے دھو کہ میں ڈالتا ہے۔کرامت سے تُحجب اور پندار مراد نہیں ہے۔کرامت سے لوگوں کو اسلام کی سچائی اور حقیقت معلوم ہوتی ہے اور ہدایت ہوتی ہے۔میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ عجب اور پندار تو کرامت اخلاقی میں داخل ہی نہیں۔پس یہ شیطانی وسوسہ ہے۔دیکھو یہ کروڑ ہا مسلمان جو رُوئے زمین کے مختلف حصص میں نظر آتے ہیں کیا یہ تلوار کے زور سے، جبر و اکراہ سے ہوئے ہیں؟ نہیں! یہ بالکل غلط ہے۔یہ اسلام کی کراماتی تاثیر ہے جو ان کو کھینچ لائی ہے۔کرامتیں انواع واقسام کی ہوتی ہیں۔منجملہ ان کے ایک اخلاقی کرامت بھی ہے جو ہر میدان میں کامیاب اچھے اخلاق دکھاؤ تو یہی کرامت بن جاتی ہے۔انہوں نے جو مسلمان ہوئے صرف راستبازوں کی کرامت ہی دیکھی اور اس کا اثر پڑا۔انہوں نے اسلام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا۔نہ تلوار کو دیکھا۔بڑے بڑے محقق انگریزوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ اسلام کی سچائی کی روح ہی ہے۔66