خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 545

خطبات مسرور جلد 11 545 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 اکتوبر 2013ء یا درکھیں کہ اگر کوئی اُن پر سختی کرے تو حتی الواسع اس کا جواب نرمی اور ملاطفت سے دیں۔تشدد اور جبر کی ضرورت انتقامی طور پر بھی نہ پڑنے دیں۔اور یہی ایک سبق ہے جو ہم دنیا کو دیتے ہیں کہ یہ معیار ہے دنیا میں امن قائم کرنے کا، اور دنیا پھر اس کو پسند کرتی ہے۔لیکن ہمارے عملی نمونے بھی ایسے ہونے چاہئیں۔فرمایا: ”انسان میں نفس بھی ہے اور اس کی تین قسم ہیں۔اتارہ کو امہ، مطمئنہ۔اتارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوش کو سنبھال نہیں سکتا جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا اور اندازہ سے نکل جاتا اور اخلاقی حالت سے گر جاتا ہے۔مگر حالت تو امہ میں سنبھال لیتا ہے۔“ دل بار بار اُس کو ملامت کرتا ہے کہ میں نے برائی کی۔فرماتے ہیں کہ : ” مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستان میں لکھی ہے کہ ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا۔گھر آیا تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی۔وہ بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا؟ اس کتے کو۔اس نے جواب دیا۔بیٹی ! انسان سے گتپن نہیں ہوتا۔اسی طرح سے انسان کو چاہئے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے نہیں تو وہی گتین کی مثال صادق آئے گی۔خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح ستایا گیا، مگر ان کو أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (الاعراف: 200) کا ہی خطاب ہوا۔خود اُس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں ، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خُلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا۔اُن کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح وسلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اُس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل وخوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔غرض یہ صفت لو امہ کی ہے جو انسان کشمکش میں بھی اصلاح کر لیتا ہے۔روزمرہ کی بات ہے اگر کوئی جاہل یا او باش گالی دے یا کوئی شرارت کرے۔جس قدر اس سے اعراض کرو گے، اسی قدر اُس سے عزت بچالو گے۔اور جس قدر اس سے مٹھ بھیڑ اور مقابلہ کرو گے تباہ ہو جاؤ گے اور ذلّت خرید لو گے۔نفس مطمئنہ کی حالت میں انسان کا ملکہ حسنات اور خیرات ہو جاتا ہے۔وہ دنیا اور ماسوی اللہ سے بکلی انقطاع کر لیتا ہے۔وہ دنیا میں چلتا پھرتا اور دنیا والوں سے ملتا جلتا ہے لیکن حقیقت میں وہ یہاں نہیں ہوتا۔جہاں وہ ہوتا ہے وہ دنیا اور ہی ہوتی ہے وہاں کا آسمان اور زمین اور ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 64۔مطبوعہ ربوہ )