خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد 11 49 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء اس کے بعد نظارہ اچانک بدل گیا۔دیکھتا ہوں کہ ہم چار احمدی ایک یہ راقم اور مولوی عطاء اللہ مرحوم ، عالمگیر خان، غیر مبائع دلاور خان اکٹھے بیٹھے ہیں، جس طرح روٹی کھانے کے لئے بیٹھتے ہیں۔ہم آپس میں کہتے ہیں۔کوئی کہتا ہے میں باز ہوں، کوئی کہتا ہوں میں کاؤس ہوں ، ایک کہتا ہے میں کبوتر ہوں، دوسرا کہتا ہے میں چکور ہوں۔اتنے میں خلیفہ اول تشریف لائے۔فرمایا تم اس کے لئے نہیں پیدا ہوئے کہ میں باز ہوں، کا ؤس ہوں ، کبوتر ہوں، چکور ہوں ، کہو لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله۔تیسرے کلمہ پڑھنے پر ( دو تین دفعہ کلمہ پڑھا) بیدار ہوا خواب سے۔ظہر کا وقت تھا ، ایک بالشت بھر سایہ دیوار کا تھا۔جب اگلے سال میں قادیان گیا تو وہی حلیہ خواب میں مسیح کا اور خلیفہ اول کا پایا۔الحمد للہ دوسرا خواب کہتے ہیں کہ قادیان میں خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے خلافت کے زمانے میں بائیس دن زیر علاج خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ حکیم الامت ، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور دو اور احمدی ڈاکٹروں سے میری تشخیص کروائی۔( یہ ان کا علاج کر رہے تھے ) اُنہوں نے آپریشن کا مشورہ دیا۔میں خوش ہوا۔رات کو مہمان خانے کے کمرے میں مسیح موعود علیہ السلام میرے سرہانے کھڑے فرما رہے تھے ( رات کو خواب دیکھی ) کہ آپریشن نہیں طاعون ہے اور تعبیر بھی مجھے سمجھایا گیا کہ طاعون بمعنی موت ہے۔میں نے صبح خلیفہ اول کو خواب کا ذکر کیا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔مسیح موعود درست فرماتے ہیں۔آپریشن نہیں چاہئے۔تیسری خواب بھی ایک بیان فرما رہے ہیں۔کہتے ہیں اپنے گھر میں خواب میں دیکھا کہ میں نے دوسرے روز جلسہ سالانہ پر جانے کا ارادہ کیا تھا۔مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔حامد علی کا بھی خیال رکھنا۔چنانچہ میں نے جلسہ سالانہ قادیان پر جا کر ایک روپیہ حامد علی صاحب خادم مسیح موعود علیہ السلام کو دیا۔( یہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد کا ذکر ہے ) کہتے ہیں میں نے حامد علی صاحب خادم مسیح موعود کولکھا کہ رویا میں مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے حکم دیا ہے کہ حامد علی کا بھی خیال رکھنا۔پس یہ ایک روپیہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔حامد علی صاحب روئے۔( اس بات کوسن کر وہ روئے۔) کہنے لگے کہ انبیاء کیسے رحیم و کریم ہوتے ہیں۔اپنے خادم کا بھی انہیں فکر ہے۔پھر اپنے پیارے بیٹوں کا انہیں فکر نہ ہوگا جو لاہور میں ایک بے شرم اور اس کے ہم خیال مسیح علیہ السلام کے اہلِ بیت پر ناجائز حملے کرتے ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 2 صفحہ 77 تا 79 - از روایات حضرت خان زادہ امیر اللہ خان صاحب) اُس وقت غیر مبائعین جو لاہور ہی چلے گئے تھے، اُن کا پھر خواب میں اُن کو ( خیال ) آیا کہ