خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 538

خطبات مسرور جلد 11 علم 538 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2013ء (الجمعة: 4) کے روشن تر نشانوں کے ساتھ پورا ہونے کی دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الفاظ کہ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے، صرف الفاظ نہیں بلکہ آج یہ الفاظ ہر نیا دن طلوع ہونے کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حق میں خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت کے نظارے دکھا رہے ہیں۔لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی دلیل مانگتے ہیں۔اگر آنکھیں بند نہ ہوں، اگر دل و دماغ پر پردے نہ پڑے ہوں تو آپ علیہ السلام کی صداقت کے لئے یہ جلسوں کے انعقاد ہی جو دنیا کے کونے کونے میں ہو رہے ہیں بہت بڑی دلیل ہیں۔کہ وہ جلسہ جو صرف 123 سال پہلے قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی میں منعقد ہوا تھا، آج دنیا کے تمام براعظموں میں منعقد ہورہا ہے۔دنیا کے اس بڑا اعظم میں بھی منعقد ہو رہا ہے اور اس براعظم کے اور اس ملک کے بڑے شہر میں منعقد ہو رہا ہے جو وہاں سے ہزاروں میل دور ہے اور ہزاروں مرد و خواتین اور بچے اس میں شامل ہیں۔اور یہی جلسہ تقریباً ایک مہینہ پہلے بڑی شان کے ساتھ دنیا کے اُس ملک کے دارالحکومت میں منعقد ہوا جس نے ایک لمبا عرصہ ہندوستان پر حکومت کی اور جس کے بعض افسران اور پادریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مقدمے بھی کروائے۔آپ علیہ السلام کو عدالتوں میں بھی کھینچا۔لیکن آج اُس ملک کی حکومت کے افسران اور لیڈ ر حتی کہ اُس ملک کے پادری بھی اس اعتراف کے بغیر نہیں رہ سکے کہ جماعت احمدیہ کا پیغام دنیا کی قوموں اور لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پیغام ہے۔محبت، پیار اور بھائی چارے کا پیغام ہے اور اس پیغام کو دنیا میں پھیلنا چاہئے۔اسی طرح امریکہ جو دنیا کی بڑی طاقت سمجھی جاتی ہے، اُس کے ارباب حکومت بھی ہمارے جلسہ میں آکر ، یا اپنے پیغام کے ذریعہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اسلام کے حقیقی پیغام کا ہمیں جماعت احمدیہ سے پتہ چلا ہے۔پس یہ جلسے جہاں احمدیوں کے لئے علمی اور روحانی ترقی کا باعث بنتے ہیں اور بننے چاہئیں ، وہاں غیروں کو بھی اسلام کی خوبیوں کا معترف بنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کو بڑی شان سے پورا کرتے ہیں کہ ان کی خالص تائید حق پر بنیاد ہے، اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے، اسلام کے نام کو بلند کرنے پر بنیاد ہے، اسلام کے اعلیٰ وارفع مذہب ہونے کو دنیا پر ثابت کرنے کا ذریعہ ہے۔پس اس زمانے میں جب غیر بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ اسلام کی خوبصورتی کا اقرار کرتے ہیں، جو حقیقی اسلام ہے جو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہے تو کیا ایک احمدی کو پہلے سے بڑھ کر اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہونا چاہئے۔ایک احمدی کی ذمہ داری تو ان باتوں سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے