خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد 11 535 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2013ء پس جب ہم نے غیروں کے سامنے سیرت بیان کرنی ہے تو خود بھی اس پر عمل کرنا ہو گا۔اپنے عملی نمونوں سے اسلام کی طرف غیروں کو کھینچنا ہو گا۔جب رحمتہ للعالمین کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھانا ہے تو خود بھی ہر سطح پر پیار، محبت، بھائی چارے کے نمونے دکھانے ہوں گے۔قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کو دنیا پر ظاہر کرنا ہے۔دنیا کو بتانا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھنے کے لئے اس زمانے میں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے تو اس کے ساتھ مجڑے بغیر اس تعلیم کی حقیقت سمجھ نہیں آسکتی۔اگر زمانے کے امام کے ساتھ نہیں جڑو گے تو ایک دوسرے پر کفر کے فتوے ہی لگاتے رہو گے۔اس کے بغیر غیر مذاہب کو اسلام کے قریب لانے کی بجائے اسلام سے دُور ہی کرتے رہو گے۔پس ہر احمدی کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکر گزار ہو کہ اُس نے ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آنے والے زمانے کے مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔لیکن یہ شکر گزاری کس طرح ہوگی؟ اس شکر گزاری کے لئے ہمیں اپنی خواہشات کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی ہوگی، اپنے جذبات کی قربانی دینی ہوگی، حقیقی تعلیم کو سمجھنے کے لئے محنت کرنی ہوگی، پس اس طرف ہمیں بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔باتیں تو بہت سی کرنے والی ہیں لیکن ابھی وقت نہیں کہ میں ساری باتیں اسی وقت کھول کر بیان کروں۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس زمانے میں فاصلوں کی دُوری کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جماعت اور خلافت کے تعلق کو جوڑ دیا ہے۔اس لئے میرے خطبات اور مختلف پروگراموں کو ضرور سنا کریں۔میں نے جائزہ لیا ہے بعض عہدیداران بھی خطبات کو با قاعدگی سے نہیں سنتے۔یہ خطبات وقت کی ضرورت کے مطابق دینے کی کوشش کرتا ہوں۔اس لئے اپنے آپ کو ان سے ضرور جوڑیں تا کہ دنیا میں ہر جگہ احمدیت کی تعلیم کی جوا کائی ہے اس کا دنیا کو پتہ لگ سکے۔آخر میں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند ارشادات آپ کے سامنے رکھوں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اپنی جماعت کو کس معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کا عمدہ نمونہ پیش کرو۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 605 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ نے فرمایا کہ : " خدا تعالیٰ کی نصرت اُنہی کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے