خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 534 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 534

خطبات مسرور جلد 11 534 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2013ء عیسائیوں میں قدر مشترک اللہ تعالیٰ ہے۔جس طرح مسلمانوں کو اللہ کہنے کا حق ہے اسی طرح عیسائیوں کو بھی اللہ کہنے کا حق ہے۔اسی طرح کسی کو بھی اللہ کہنے کا حق ہے۔پس یہ مثالیں میں نے اس لئے دی ہیں کہ بعض احمد ی اس بارے میں پوچھتے ہیں۔قرآن کریم تو ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو سب کا اللہ کہا ہے۔کسی شخص کی کسی فرقے کی کسی مذہب کی کسی حکومت کی کسی عدالت کی اللہ تعالیٰ کے لفظ پر اجارہ داری نہیں ہے۔اللہ تعالی کوئی ٹریڈ مارک نہیں ہے۔وہ رب العالمین ہے۔آج دنیا کو احمدی ہی بتا سکتے ہیں کہ حقیقی اسلامی تعلیم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اُس کا مقام کیا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کی حقیقت کیا ہے۔غیر احمدی مسلمانوں نے تو جیسا کہ میں نے کہا اسلام کو غیروں کے لئے استہزاء کا سامان بنادیا ہے۔بہر حال ملائیشیا کے احمدیوں کا کام ہے کہ حکمت سے اسلام کی تعلیم اپنے ہم وطنوں کو بتاتے رہیں۔اُن کو بتائیں کہ تم کیوں ان نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بدنام کر رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ ان کی جہالت کے پردوں کو دُور فرمائے۔میں نے انڈونیشیا اور ملائیشیا کا ذکر کیا ہے۔شاید سنگا پور کے احمدی سوچتے ہوں کہ آئے تو ہمارے ملک میں ہیں اور ذکر دوسرے ملکوں کا ہو رہا ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر احمدی کو یا درکھنا چاہئے کہ مومن ایک جسم کی طرح ہے۔ایک کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔اس لئے اُن ملکوں میں رہنے والے احمدیوں کو جہاں اُن کو تکلیفیں دی جا رہی ہیں ہر احمدی کو دنیا کے ہر احمدی کو محسوس کرنا چاہئے۔دوسرے سنگا پور کے احمدیوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ یہاں کے حالات اچھے ہیں۔حکومت کسی مذہب کے خلاف بولنے کی کسی کو اجازت نہیں دیتی۔لیکن اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے سے بھی نہیں روکتی۔پس حکمت کے ساتھ اپنے تبلیغ کے میدان کو وسیع تر کرتے چلے جائیں۔ہر طبقے میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا ئیں۔یہاں میرے سامنے جو احمدی بیٹھے ہوئے ہیں چاہے سنگا پور کے ہوں یا کسی دوسرے ملک کے۔ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ چاہے حالات اچھے ہوں یا خراب ، ہم احمدی مسلمانوں نے اسلام کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا ہے۔اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خوبصورت پہلوؤں کو دنیا پر ظاہر کرنا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے کسی پہلو کو بھی لے لیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر پہلو ایک حقیقی مسلمان کے لئے اُسوہ حسنہ ہے۔چاہے وہ گھر یلو معاملات ہیں یا معاشی اور معاشرتی اور غیروں کے ساتھ معاملات ہیں یا غیر قوموں کے ساتھ یا دوسروں کے ساتھ معاملات ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے کامل نمونہ ہیں۔