خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 533
خطبات مسرور جلد 11 533 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 ستمبر 2013ء مفادات اور اپنی ذاتی خواہشوں کی وجہ سے غیروں کی نظر میں ایک مذاق بنالیا ہوا ہے۔ملائیشیا کے صدر جماعت ملے تھے کہہ رہے تھے کہ بورڈ تو لگے ہوئے ہیں لیکن لوگوں کو اب اِن کی پرواہ نہیں رہی۔غیر از جماعت شرفاء کو بھی اب پتہ لگ گیا ہے کہ یہ مولوی کے اپنے مفادات ہیں جن کا اظہار ہو رہا ہے۔اسلام کو اس طرح یہ غیروں کی نظر میں ہنسی اور ٹھٹھے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔یہ اسلام کو اس کی پرانی تعلیم کے خلاف اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں لیکن حقیقی اسلام وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور رسول کے احکامات ہیں۔اب کچھ عرصہ پہلے ملائیشیا میں ایک عیسائی پادری نے کہہ دیا تھا کہ عیسائی بھی اللہ تعالیٰ کا لفظ استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ہمارا بھی اللہ ہے۔اس پر اُن نام نہاد علماء نے شور ڈال دیا کہ ہیں ! یہ ایسی جرات کس طرح کر لی انہوں نے؟ عدالت میں مقدمہ لے جایا گیا اور پھر عدالت کا یہ حال ہے کہ فیصلہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کا نام صرف مسلمان استعمال کر سکتے ہیں اور کوئی کسی کو حق نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ اللہ میرا بھی ہے۔گویا ان دنیا داروں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر اللہ تعالیٰ کو بھی محدود کر دیا ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر صرف ان نام نہاد مسلمانوں کی اجارہ داری ہے۔جاہل مولوی تو ایسی باتیں کریں تو کریں، حیرت ہوتی ہے اُن پڑھے لکھے فیصلہ کرنے والوں پر بھی جو ان باتوں سے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ: 2) کہ اللہ ہر ایک کا رب ہے، چاہے مسلم ہے یا غیر مسلم ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ (الرعد: 27) کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے۔کیا عیسائیوں کو یا یہودیوں کو یا کسی اور کوکوئی اور رزق دے رہا ہے؟ ان کے اس فیصلے کی رُو سے اگر ایک عیسائی کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے تو یہ نا قابل معافی جرم ہے۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں پہلے نبیوں کے ذریعہ سے بھی کہلواتا ہے کہ الله رَبِّكُمْ وَ رَبِّ أَبَاءِ كُمُ الْأَوَّلِينَ (الصفت : 127) اللہ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے آباؤ اجداد کا بھی رب ہے۔پس اللہ تعالیٰ پر مسلمانوں کی کہاں سے اجارہ داری ہو گئی۔پھر اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی ان عیسائیوں کے بارے میں جن کے متعلق ملائیشیا کی عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ اللہ کا لفظ صرف مسلمان استعمال کر سکتے ہیں کہ قُلْ يَا هُل الكتب تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِلَّا نَعْبُدَ إِلَّا الله (آل عمران : 65) تو کہہ دے کہ اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔یعنی قدر مشترک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔مسلمانوں اور