خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد 11 527 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013ء کسی ڈیوٹی کے لئے بلایا جا تا تو ہمیشہ اطاعت کا مظاہرہ کرتے۔ان کے بھائی مکرم اعزاز احمد کیانی صاحب نے بتایا کہ شہادت سے ایک روز قبل اپنے بہنوئی مکرم ظہور احمد کیانی صاحب شہید کے ذکر پر آبدیدہ ہو گئے۔ظہور کیانی صاحب شہید کی بہت عزت کیا کرتے تھے اور بڑے بھائی اور باپ کا مقام دیا کرتے تھے۔ان کی شہادت کے بعد کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرا کہ آپ نے اُن کے گھر جا کر اُن کے بچوں کی خیریت نہ معلوم کی ہو۔اُن کی شہادت کا ان پر بڑا گہرا اثر تھا۔شہید مرحوم کی والدہ نے بتایا کہ چار بہنوں کے بعد بہت دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بیٹا عطا فر مایا تھا۔سوچ سمجھ کے بات کیا کرتا تھا، میرے ساتھ انتہائی پیار اور عقیدت کا تعلق تھا ، ڈیوٹی پر جاتے ہوئے ہاتھ ملا کر خدا حافظ کہہ کر جاتا تھا۔میری دوائی کا خاص خیال رکھتا تھا۔بہنوں کا اس طرح خیال رکھتا جیسے بڑا بھائی ہو۔بہت نرم طبیعت تھی۔جب بھی گھر میں کوئی چیز لا تا تو خواہش ہوتی کہ سب کو دوں۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ شہید مرحوم بہت اچھی طبیعت کے مالک تھے۔ہر ایک کا فرض ادا کیا۔اچھے بیٹے ، اچھے بھائی ، اچھے باپ اور اچھے شوہر تھے۔کہتی ہیں جب بھی میں کبھی پریشان ہوتی تو پھر تسلی دلاتے۔اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتے۔بچوں کے ساتھ انتہائی شفقت کا سلوک کرتے ، ان کے بہنوئی کی جو شہادت ہوئی ہے گزشتہ ماہ، تو بار بار کہتے رہے کہ کاش میں ان کی جگہ ہوتا۔شہید مرحوم نے والدین، پسماندگان میں والدین کے علاوہ اہلیہ محترمہ ، ایک بیٹی عزیزہ در عدن اعجاز عمر چار سال اور ایک بیٹا برہان احمد عمر ڈیڑھ سال سوگوار چھوڑے ہیں۔کراچی میں حالات اس لحاظ سے خاص طور پر بہت خراب ہیں۔لگتا ہے کہ ایک ٹولہ ہے جو احمدیوں کی ٹارگٹ کلنگ (Target Killing) کر رہا ہے۔اس مقصد کے لئے خاص طور پر مقرر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی پکڑ کے بھی جلد سامان پیدا فرمائے۔اصل میں تو مولوی اور اُن کی ہمنوائی میں حکومت کی شہ پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس ظالم گروہ کی بھی جلد پکڑ کے سامان پیدا فرمائے۔دعاؤں کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کراچی میں خاص طور پر زیادہ حالات خراب ہیں لیکن عموماً پاکستان میں بھی حالات بہت خراب ہیں ، لاہور میں بھی اسی طرح کئی جگہ کئی احمدیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ، مارنے کی کوشش کی گئی۔اللہ تعالیٰ سب احمدیوں کو وہاں اپنی حفظ وامان میں رکھے۔دوسرا جنازہ جو آج اس کے ساتھ ادا کیا جائے گا ، وہ مکرم عبدالحمید مومن صاحب در ولیش ابن مکرم اللہ دتہ صاحب کا ہے جو قادیان کے درویش تھے۔11 ستمبر 2013ء کو مختصر علالت کے بعد 97 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ