خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 524
خطبات مسرور جلد 11 524 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013 ء نے فرمایا۔انتُمُ الْحَفَظَةُ عَلَى عَمَلِ عَبْدِی کہ تمہیں تو میں نے اعمال کی حفاظت اور اُنہیں تحریر کرنے کے لئے مقرر کیا ہے، تم صرف انسان کے، اس بندے کے ظاہری اعمال کو دیکھتے ہو اور اُنہیں لکھ لیتے ہو۔پھر فرما ياوَأَنَا الرَّقِيبُ عَلَى قَلْبِ کہ میں اپنے بندے کے دل کو دیکھتا ہوں۔اس بندے نے یہ اعمال بجالا کر میری رضا نہیں چاہی تھی بلکہ اس کی نیت اور ارادہ کچھ اور ہی تھا۔وہ میرے علاوہ کسی اور کو خوش کرنا چاہتا تھا۔فَعَلَيْهِ لعنتی۔اس پر میری لعنت ہو۔اس پر تمام فرشتے پکارا تھے۔عَلَيْهِ لَعْنَتُكَ وَ لَعْنَتُنَا کہ اے ہمارے رب! اس پر تیری بھی لعنت ہے اور ہماری بھی لعنت ہے۔اور اس پر ساتوں آسمانوں اور اُن میں رہنے والی ساری مخلوق نے اس پر لعنت کرنی شروع کر دی ، یا اس پر لعنت کرنی شروع کر دے گی۔حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت یا نصیحت کو سنا تو آپ کا دل کانپ اٹھا۔آپ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! كَيْفَ لِي بِالنَّجَاةِ وَالْخَلاص یا رسول اللہ! اگر اعمال کا یہ حال ہے تو ہمیں کیسے نجات حاصل ہوگی؟ اور میں اپنے رب کے قہر اور غضب سے کیسے نجات پاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا۔اقتد بی“ کہ تم میری سنت پر عمل کرو اور اُس پر یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ کا ایک بندہ خواہ کتنے ہی اچھے عمل کیوں نہ کر رہا ہو، اُس میں ضرور بعض خامیاں رہ جاتی ہیں۔اس لئے تم اپنے اعمال پر ناز نہ کرو بلکہ یہ یقین رکھو کہ ہمارا خدا اور ہمارا مولیٰ ایسا ہے کہ وہ ان خامیوں کے باوجود بھی اپنے بندوں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔وحافظ على لسانك اور دیکھوا اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اس سے کسی کو دکھ نہ پہنچاؤ۔کوئی بری بات اُس سے نہ نکالو - وَلَا تُزَكِ نَفْسَكَ عَلَيْهِمْ اور اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ متقی اور پرہیز گار نہ سمجھو اور نہ اپنی پر ہیز گاری کا اعلان کرو۔وَلَا تُدْخِلُ عَمل الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ اور جو عمل تم خدا تعالیٰ کی رضا اور اخروی زندگی میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے کرتے ہواُس میں دنیا کی آمیزش نہ کرو۔وَلَا تُمَتِّقِ النَّاسَ فَيمَةٌ قُكَ كِلَابُ النَّارِ اور لوگوں میں فتنہ وفساد پیدا کرنے اور اُنہیں پھاڑنے کی کوشش نہ کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو قیامت کے دن جہنم کے کئے تمہیں پھاڑ دیں گے۔وَلَا تُرَاء بِعَمَلِك النَّاس اور اپنے عمل ریاء کے طور پر دنیا کے سامنے پیش نہ کیا کرو۔اگر یہ کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی تم پر ہیں۔( روح البیان جلد 1 صفحہ 78 تا 80 سورة البقرة زیر آیت نمبر 22 دار الكتب العلمیة بیروت 2003ء) (الترغيب والترهيب للمنذری جلد اول صفحه 54 تا 56 باب الترهيب من الرياء وما يقوله من خاف شيئاً منه حدیث نمبر 57 دار الحدیث قاهره 1994ء)