خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 523 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 523

خطبات مسرور جلد 11 523 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013 ء لَهَا دَوِي كَدَوِي النَحْلِ وَ ضَوْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ کہ ان اعمال سے شہد کی مکھیوں کی آواز جیسی آواز آتی تھی یعنی وہ فرشتے گنگنا ر ہے تھے کہ ہم بڑی اچھی چیز خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور وہ اعمال سورج کی روشنی کی طرح چمک رہے تھے۔اُن کے ساتھ تین ہزار فرشتے تھے۔گویا وہ اعمال اتنے زیادہ اور بھاری تھے کہ تین ہزار اُن کے خوان کو اُٹھائے ہوئے تھے۔جب وہ ساتویں آسمان کے دروازے پر پہنچے تو دربان فرشتے نے جو وہاں مقرر تھا کہا ٹھہر وہ تم آگے نہیں جاسکتے تم واپس جاؤ اور ان اعمال کو اُس شخص کے منہ پر مارو اور اُس کے دل پر تالا لگا دو کیونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُس کے حضور ایسے اعمال پیش نہ کروں جن سے خالصہ خدا تعالیٰ کی رضا مطلوب نہ ہو اور اُن میں کوئی آمیزش ہو۔اُس شخص نے یہ اعمال غیر اللہ کی خاطر کئے۔یہ شخص فقیہوں کی مجالس میں بیٹھ کر اور فخر سے گردن اونچی کر کے تفقہ اور اجتہاد کی باتیں کرتا ہے تا اُن کے اندر اُسے ایک بلند مرتبہ اور شان حاصل ہو۔اس نے یہ اعمال میری رضا کی خاطر نہیں کئے، بلکہ محض لاف زنی کے لئے کئے ہیں۔وَ ذِكرًا عِنْدَ الْعُلَمَاءِ وَصِيْتًا فِي الْمَدَائِنِ اُس کی غرض یہ تھی کہ وہ دنیا میں ایک بڑے بزرگ کی حیثیت سے مشہور ہو جائے ، علماء کی مجالس میں اُس کا ذکر ہو۔وہ کام جو خالصاً خدا تعالیٰ کے لئے نہ ہو اور اُس میں ریاء کی ملونی ہو، وہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں۔فرشتے نے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں ایسے اعمال کو آگے نہ گزرنے دوں۔تم واپس جاؤ اور ان اعمال کو اُس شخص کے منہ پر دے مارو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور فرشتے ایک بندے کے اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوئے اور ساتوں آسمانوں کے دربان فرشتوں نے انہیں گزرنے دیا۔انہیں ان اعمال پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ہر آسمان کا جو دربان تھا اُس نے کہا کہ اس کے اعمال ٹھیک ہیں ، ظاہری لحاظ سے بالکل ٹھیک ہیں، گزرنے دیا۔ان اعمال میں زکوۃ بھی تھی ، روزے بھی تھے، نماز بھی تھی ، جج بھی تھا، عمرہ بھی تھا، اچھے اخلاق بھی تھے، ذکر الہی بھی تھا اور جب وہ فرشتے ان اعمال کو خدا تعالیٰ کے حضور میں لے جانے کے لئے روانہ ہوئے تو آسمانوں کے فرشتے اُن کے ساتھ ہو لئے اور وہ تمام دروازوں میں سے گزرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے دربار میں پہنچ گئے۔وہ فرشتے خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا: اے ہمارے رب! تیرا یہ بندہ ہر وقت تیری عبادت میں مصروف رہتا ہے اور ہم اس کے ہر عمل کی، نیک عمل کی، اخلاص کی گواہی دیتے ہیں۔وہ بڑی نیکیاں کرتا ہے اور اپنے تمام اوقات عزیزہ کو تیری اطاعت میں خرچ کر دیتا ہے۔یہ بڑا ہی مخلص بندہ ہے۔اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔غرض انہوں نے اس شخص کی بڑی تعریف کی۔خدا تعالیٰ