خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 522
خطبات مسرور جلد 11 522 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013ء کو اُس کا ایک حصہ بنادیتا تھا، اُس کے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول نہیں ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں کا ایک پانچواں گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوا۔ان اعمال کے متعلق ان فرشتوں کا خیال تھا کہ كَأَنَّهُ الْعَرُوسُ الْمَزْفُوفَةُ إلى بغلها “ وہ ایک سجی سجائی سولہ سنگھار سے آراستہ دلہن کی طرح ہے جو خوشبو پھیلاتی ہے اور اپنے دولہا کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔لیکن جب وہ چاروں آسمانوں پر سے گزرتے ہوئے پانچویں آسمان پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتے نے کہا کہ ٹھہر جاؤ، ان اعمال کو واپس لے جاؤ اور اس شخص کے منہ پر مارو اور ا سے کہہ دو کہ تمہارا خدا ان اعمال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ میں حسد کا فرشتہ ہوں اور میرے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ ہر وہ شخص جس کو حسد کرنے کی عادت ہو اُس کے اعمال پانچویں آسمان کے دروازے میں سے نہ گزرنے دوں گا۔یہ شخص ہر علم حاصل کرنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے پر حسد کیا کرتا تھا۔میں اس کے اعمال کو اس دروازے میں سے نہیں گزرنے دوں گا۔کسی بھی عالم کو دیکھتا تھا، کسی بھی اچھے کام کرنے والے کو دیکھتا تھا تو حسد کرتا تھا۔اس لئے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ یہ یہاں سے گزر سکے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں کا ایک چھٹا گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوا اور پہلے پانچ دروازوں میں سے گزرتا ہوا چھٹے آسمان تک پہنچ گیا۔یہ اعمال ایسے تھے جن میں روزہ بھی تھا، نماز بھی تھی، زکوۃ بھی تھی، حج اور عمرہ بھی تھا اور فرشتوں نے سمجھا کہ یہ سارے اعمال خدا تعالیٰ کے حضور میں بڑے مقبول ہونے والے ہیں لیکن جب وہ چھٹے آسمان پر پہنچے تو وہاں کے دربان فرشتے نے کہا ٹھہر جاؤ آگے مت جاؤ۔اِنَّهُ كَانَ لَا يَرْحَمُ إِنْسَانًا مِنْ عِبَادِ اللهِ کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی بندے پر رحم نہیں کیا کرتا تھا اور خدا تعالیٰ نے مجھے یہاں اس لئے کھڑا کیا ہے کہ جن اعمال میں بے رحمی کی آمیزش ہو میں اُنہیں اس دروازے سے نہ گزرنے دوں۔تم واپس لوٹو اور ان اعمال کو اس شخص کے منہ پر یہ کہہ کر مارو کہ تمہارا اپنی زندگی میں یہ طریق ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے بندوں پر رحم کرنے کی بجائے ظلم کرتے ہو۔خدا تعالیٰ تم پر رحم کرتے ہوئے تمہارے یہ اعمال کیسے قبول کرے۔جب تم رحم نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ بھی تم پر رحم نہیں کرے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ اور فرشتے ایک بندے کے اعمال لے کر آسمان کے بعد آسمان اور دروازے کے بعد دروازے سے گزرتے ہوئے ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ان اعمال میں نماز بھی تھی ، روزے بھی تھے، فقہ اور اجتہاد بھی تھا اور ورع بھی تھا ، (یعنی پر ہیز گاری بھی تھی ) اور فرما یا کہ