خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد 11 521 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 ستمبر 2013ء آئے ہو ، لوگوں کی مجالس میں بیٹھ کر اپنے ان اعمال پر فخر و مباہات کا اظہار کیا کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فرشتوں کا ایک اور گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف بلند ہوا اور وہ ان فرشتوں کی نگاہ میں بھی کامل نور تھے، ایسے اعمال تھے جو بڑے چمکدار تھے۔ان اعمال میں صدقہ و خیرات بھی تھا، روزے بھی تھے، نمازیں بھی تھیں اور وہ محافظ فرشتے تعجب کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا یہ بندہ کس طرح اپنے رب کی رضا کی خاطر محنت کر رہا ہے۔اور چونکہ ان اعمال میں غیبت کا کوئی حصہ نہیں تھا، ان میں فخر و مباہات کا بھی کوئی حصہ نہیں تھا، اس لئے پہلے اور دوسرے آسمان کے دربان فرشتوں نے انہیں گزرنے دیا۔لیکن جب وہ تیسرے آسمان کے دروازے پر پہنچے تو اُس کے دربان فرشتے نے کہا ٹھہر جاؤ۔اضْرِبُوا بِهَذَا الْعَمَلِ وَجْهَ صَاحِبِهِ کہ جس شخص کے یہ اعمال ہیں، تم خدا تعالیٰ کے حضور جن کو پیش کرنے جارہے ہو، اُس کے پاس واپس لے جاؤ اور ان اعمال کو اُس کے منہ پر مارو۔فرشتے نے کہا کہ میں تکبر کا فرشتہ ہوں، مجھے تیسرے آسمان کے دروازے پر اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دے کر کھڑا کیا ہے کہ اس دروازے سے کوئی ایسا عمل آگے نہ گزرے جس کے اندر تکبر کا کوئی حصہ ہو۔اور یہ شخص جس کے اعمال تم اپنے ساتھ لائے ہو یہ بڑا متکبر ہے۔وہ اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان سے تکبر اور اباء کا سلوک کیا کرتا ہے۔اور وہ اپنی مجالس میں گردن اونچی کر کے بیٹھنے والا ہے۔اس کے اعمال گو تمہاری نظر میں اچھے نظر آ رہے ہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول نہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چوتھا گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف بلند ہوا۔وہ اعمال ان فرشتوں کو کوکب دری ، یعنی روشن ستارے کی طرح خوبصورت معلوم ہوتے تھے۔اُن میں نماز میں بھی تھیں تسبیح بھی تھی، حج بھی تھا، عمرہ بھی تھا۔وہ فرشتے یہ اعمال لے کر آسمان کے بعد آسمان اور دروازے کے بعد دروازے سے گزرتے چوتھے آسمان کے دروازے پر پہنچے۔تو اُس کے دربان فرشتے نے انہیں کہا ٹھہر جاؤ۔تم یہ اعمال اُن کے بجالانے والے کے پاس واپس لے جاؤ اور اُس کے منہ پر دے مارو۔اُس فرشتے نے کہا کہ میں خود پسندی کا فرشتہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُس شخص کے اعمال کو جس کے اندر معجب پایا جاتا ہے، گویا وہ اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتا ہو اور خود پسندی کا احساس اُس کے اندر پایا جائے اور اُس میں خدا تعالیٰ کی بندگی کا احساس نہ پایا جاتا ہو، اس چوتھے آسمان کے دروازے سے اُسے نہیں گزرنے دیا جاسکتا کیونکہ میرے رب کا مجھے یہی حکم ہے کہ یہ شخص جب کوئی کام کرتا تھا تو خود پسندی