خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 513

خطبات مسرور جلد 11 513 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء خون بہے گا جس طرح پہلے بہہ چکا ہے۔لیکن میرے اندازے سے بہت پہلے یہ خون بہہ گیا۔گزشتہ دنوں کے مصر کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔مسلمان ممالک میں بے چینی کی جو بھی وجوہات ہوں ،عوام کی طرف سے جائز بھی ہوں گی لیکن جب بڑی طاقتیں غلط رنگ میں دخل اندازی کریں گی تو فساد پیدا ہوگا۔میں نے 2011ء کے شروع میں جب اس بارے میں خطبات دیئے تھے تو واضح کیا تھا کہ مسلمانوں کے ان حالات کی وجہ سے امن کے نام پر بڑی طاقتیں جو بھی ظاہری اور خفیہ حکمت عملی وضع کریں گی وہ آخر کار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی ہو گی۔کبھی یہ طاقتیں اپنے مفادات کو متاثر نہیں ہونے دیں گی۔اور اب یہ دیکھ لیں کہ حسنی مبارک کے زمانے میں جو خون خرابہ ہوا ہے اُس میں عوام کی حمایت کی گئی ، اُسے ہٹایا گیا اور کوشش کی گئی ، بڑا پراپیگنڈہ ہوا۔لیکن جب دوسری حکومت نے مفادات کا خیال نہ رکھا اور فوجی حکومت آگئی اور اُس نے پہلے سے بھی زیادہ خون بہایا تو اس وقت کسی نے عوام سے ہمدردی کا اظہار نہیں کیا، نہ کوئی کوشش کی۔آخر یہ دو عملی ہے، یہ فرق ہے۔بہر حال مسلمان ممالک کی حکومتوں کو اب بھی غیرت دکھانی چاہئے اور اپنے ذاتی مفادات سے بڑھ کر امت مسلمہ کے مفادات کو دیکھنا چاہئے۔لیکن یہ اُس وقت ہوگا جب دلوں میں تقویٰ پیدا ہو گا، حکومت کرنے والوں کے دلوں میں بھی اور عوام کے دلوں میں بھی۔یہ اُس وقت ہوگا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کے ساتھ آپ کے اُسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہوگی۔یہ اُس وقت ہو گا جب حاکم بھی اور رعایا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد کو محسوس کرتے ہوئے آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے چندار شادات پیش ہیں جو حاکموں کو بھی اُن کے رویوں اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور عوام کو بھی۔پہلے حاکموں کے بارے میں چندا حادیث پیش کرتا ہوں۔حضرت ابوھریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن اللہ تعالیٰ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا اُس دن اللہ تعالی سات آدمیوں کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔اُن میں سے اول امام عادل ہے۔(صحیح البخاری کتاب الحدود باب فضل من ترک الفواحش حدیث نمبر 6806) یعنی عدل کی یہ اہمیت ہے۔پھر حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اُس کے زیادہ قریب انصاف پسند حا کم ہوگا۔اور سخت ناپسندیدہ اور