خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 511

خطبات مسرور جلد 11 511 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء قابل شرم بات یہ ہے کہ اسرائیلی صدر بڑی طاقتوں کو یہ مشورہ دے رہا ہے جو اصل میں تو مسلمانوں کی طرف سے آنا چاہئے تھا، لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ان مسلمان ملکوں کو خیال نہیں آیا، سر براہوں کو خیال نہیں آیا تو جب اسرائیل کے صدر نے مغربی طاقتوں کو مشورہ دیا تھا تو اس وقت مسلمان ممالک کی جو کونسل ہے، یہ اعلان کرتی کہ ہم اپنے ریجن میں جو بھی فساد ہور ہے ہیں خود سنبھالیں گے اور خصوصاً اُس علاقے کو جو ہمارے ہم مذہب ہیں۔ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں، ہم ایک رسول کو ماننے والے ہیں، ہم ایک کتاب کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اور اس کتاب کو اپنا رہنما ماننے والے ہیں۔اگر ہم میں اختلاف پیدا ہو بھی گئے ہیں، اگر ایک ملک میں دو فرقوں کی لڑائی یا عوام اور حکومت کی لڑائی کسی جائز یا ناجائز وجہ سے شروع بھی ہو گئی ہے تو ہم اپنی کامل تعلیم کی رُو سے اس مسئلہ کا حل کر لیں گے۔اگر ایک گروہ سرکشی پر اتر آیا ہے تو اس سرکشی کو دور کرنے کے لئے ہمیں اگر غیر کی مدد کی ضرورت ہوئی بھی تو ٹیکنیکل مدد یا ہتھیاروں کی مدد تو لے لیں گے لیکن حکمت عملی بھی ہماری ہوگی اور افراد بھی ہمارے ہوں گے جو اس فساد اور فتنے کو ختم کرنے کے لئے استعمال ہوں گے۔اگر یہ سوچ ہو تو کسی غیر کو جرات نہ ہو کہ مسلمان ملکوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھیں۔ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے کسی کو کسی ملک سے کیا دلچسپی ہے؟ یہی کہ یا تو اُس ملک کی دولت پر قبضہ کیا جائے ، یا جو دنیا میں اپنی مخالف بڑی طاقت ہے اُس پر اپنی طاقت کا رعب ڈالنے کے لئے اُن ملکوں کو جو غریب ملک ہیں چھوٹے ملک ہیں جن میں فساد ہو رہے ہیں، زیر نگیں کر کے اپنی برتری ثابت کی جائے۔بہر حال مسلمان ممالک کی کمزوری ہے اور اپنی تعلیم کو بھولنا ہے جو غیروں کو اتنی جرات ہے کہ ایک ملک کی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ یو این او شام پر حملہ کرنے کی اجازت نہ بھی دے تب بھی ہم حملہ کریں گے، یہ ہمارا حق ہے۔اور حق کی دلیل نہایت بچگانہ ہے کہ یو این او ہماری فارن پالیسی کو dictate نہیں کرواسکتی۔یہاں فارن پالیسی کا کہاں سے سوال آ گیا؟ جب دشمن کی دشمنی اتنی حد تک بڑھ جائے کہ آنکھوں پر پٹی بندھ جائے تو بظاہر پڑھے لکھے لوگ بھی جاہلانہ باتیں کرتے ہیں۔ہم ان کی طرف دیکھتے ہیں کہ بڑے عقلمند لوگ ہیں لیکن جاہلوں والی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔تم ہزاروں میل دور بیٹھے ہو، تمہارا اس معاملے سے کچھ تعلق بھی نہیں ہے، اگر تعلق ہے جو ہونا چاہئے تو یو این او کا کہ یہ لوگ اُس معاہدے میں ، یو این او کے چارٹر میں شامل ہیں۔کسی انفرادی ملک سے نہ معاہدہ ہے، نہ لینا دینا ہے۔جس ملک میں فساد ہے اُس سے براہ راست بھی کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔یہاں فارن پالیسی کا کہاں سے سوال آ گیا۔بہر