خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 510
خطبات مسرور جلد 11 510 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013 ء میں لڑ کر اتنے کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ اب بڑی طاقتیں آزادی دلوانے ظلم ختم کرنے اور امن قائم کرنے کے نام پر اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کریں گی اور کر رہی ہیں۔لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہ کوششیں دنیا کو بھی تباہی کی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔شام کی حکومت کے ساتھ بھی بعض بڑی حکومتیں ہیں۔اسی طرح اُس ریجن کی بھی بعض حکومتیں جو شام کی حکومت کی مدد کر رہی ہیں یا پشت پناہی کر رہی ہیں یا اُن کی حمایت کر رہی ہیں۔اسی طرح جو حکومت کے مخالف گروپ ہیں ، اُن کے ساتھ بھی حکومتیں کھڑی ہیں بلکہ بڑی طاقتیں اُن کے ساتھ زیادہ ہیں۔اس صورتحال نے جیسا کہ میں نے کہا بڑے خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں۔لیکن افسوس تو مسلمان ممالک پر ہے جو اُس تعلیم پر عمل کرنے کا دعوی کرنے والے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ فرمایا تھا کہ یہ اپنے کمال کو پہنچ چکی ہے ، اُس امت سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر امت کہا ہے۔کون ساخیر کا کام ہے جو آج یہ مسلمان ممالک کر رہے ہیں۔نہ احساس ہمدردی ہے، نہ تعلیم کے کسی حصے پر عمل ہے۔غیرت ہے تو وہ ختم ہوگئی ہے اور غیروں سے مدد مانگی جاتی ہے اور یہ مدد بھی اپنے ہی لوگوں کو مارنے کے لئے مانگی جاتی ہے۔ایسے حالات میں قرآنِ کریم کی تعلیم کیا کہتی ہے۔اگر ایسے حالات پیدا ہوں، دو گروہ اور دو جماعتیں لڑ پڑیں تو اللہ تعالیٰ کیا فرما تا ہے؟ فرماتا ہے کہ وَاِنْ طَائِفَتنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ ، بَغَتْ إِحْدُهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِى حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات: 10) اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جوز یادتی کر رہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔اور اللہ تعالیٰ نے انصاف کا معیار بھی اتنا اونچا مقرر فرمایا ہے، دوسری جگہ فرماتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں انصاف سے نہ روکے۔اگر تمہیں دنیاوی خواہشات کے بجائے اللہ کی محبت چاہئے تو پھر مسلمان کا کام ہے کہ آپس میں انصاف بھی قائم کرے اور غیروں کے ساتھ بھی انصاف قائم کرے۔فرمایا کہ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة :9) يه تقویٰ کے قریب ہے۔اور ایک مسلمان کو بار بار یہی حکم ہے کہ تقویٰ کی تلاش کرو، تقویٰ کی تلاش کرو۔