خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 509

خطبات مسرور جلد 11 509 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 ستمبر 2013ء مارے گئے؟ اس لئے کہ وہ غیر حکومت سے آزادی چاہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام بھی ہے کہ بلائے دمشق۔تو حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اُس وقت اس ہوائی حملے سے جو دمشق کی حالت تھی اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام بھی پورا ہوا کہ تمام تاریخی عمارات، تمام مذاہب کی تاریخ ، سب ملیا میٹ کر دی گئی کیونکہ اس سے بڑی بلا اور تباہی اس سے پہلے کبھی دمشق پر نہیں آئی تھی۔یہ بلا آئی تھی غیروں کے ہاتھوں، جیسا کہ میں نے کہا کہ فرانس نے حملہ کیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد نمبر 9 صفحہ نمبر 324 تا334 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1925ء مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ ) بعض الہامات کئی مرتبہ بھی پورے ہوتے ہیں۔وہ بلا جو غیروں کے ہاتھوں آئی اور شہر کو تباہ کر دیا وہ ستاون اٹھاون گھنٹے رہی جس میں کوئی کہتا ہے دو ہزار لوگ مارے گئے ،کوئی کہتا ہے بیس ہزار لوگ مارے گئے، لیکن کہا جاتا ہے، محتاط اندازہ یہی ہے کہ اُس وقت سات آٹھ ہزار لوگ بہر حال مارے گئے۔لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بلا جو غیروں کے ہاتھوں سے آئی تھی، اُس میں تو یہ نقصان ہوا۔لیکن ایک بلا اب بھی آئی ہوئی ہے جو اپنے کے ہاتھ آئی ہے اور گزشتہ تقریباً دو اڑھائی سال سے یہ دمشق میں اور شام میں تباہی پھیلا رہی ہے۔پورے شام کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔لاکھ سے اوپر لوگ مارے گئے ہیں، محتاط اندازہ ہے، بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ ہے اور ملینز میں لوگ ایسے ہیں جو بے گھر ہوئے ہیں۔گھر بھی کھنڈر بنے ہیں، بازار بھی کھنڈر بن رہے ہیں ، صدارتی محل پر بھی گولے برسائے گئے ہیں، ائیر پورٹس پر بھی گولے برسائے گئے۔مختلف عمارات پر گولے برسائے گئے ، غرض کہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔حکومت کے جو فوجی ہیں وہ شہریوں کو مار رہے ہیں اور شہری حکومتی کارندوں کو مار رہے ہیں، ان میں فوجی بھی شامل ہیں اور دوسرے بھی شامل ہیں۔علوی جو ہیں وہ سینیوں کو مار رہے ہیں اور سنی جو ہیں وہ علویوں کو ماررہے ہیں۔اور یہ سب لوگ جو ہیں ایک کلمہ پڑھنے کا دعوی کرتے ہیں۔یہ آزادی کے نام پر جو کوشش وہاں ہو رہی ہے، جو حکومت کے مخالف ہیں، عوام ہیں جن میں بڑی تعداد سینیوں کی ہے وہ جو کوشش کر رہے ہیں ، اُن میں اس کوشش میں ان کی مدد کے نام پر دہشتگر دگر وہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔جو نقصان ان لوگوں سے ، ان گروہوں سے، دہشتگر دگر وہوں سے ملک کو پہنچنا ہے، اُس کا تو بعد میں پتہ چلے گا۔بہر حال افسوس یہ ہے کہ یہ بلا جو اس دفعہ آئی ہے، یہ خوفناک شکل اختیار کرتی چلی جارہی ہے اور یہ لوگ نہیں جانتے کہ آزادی کے نام پر عوام اور امن قائم کرنے کے نام پر حکومت ایک دوسرے پر ظلم کر کے اور آپس