خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 501
خطبات مسرور جلد 11 501 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء ہوتی ہیں۔پس ان تمام کارکنات اور کارکنان کا میں بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال خاص طور پر نسبتاً زیادہ بہتر رنگ میں اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹیاں اور فرائض سرانجام دیئے۔مجھے لوگوں کے جو تاثرات مل رہے ہیں اس میں اس سال پارکنگ کے شعبہ کے بڑے اچھے تاثرات ہیں۔خدام پارکنگ کرواتے تھے ، خوش اخلاقی سے حال پوچھتے تھے، تکلیف پر معذرت کرتے تھے۔گرمی کی وجہ سے پانی وغیرہ کا پوچھتے تھے۔ایک لکھنے والا یہ لکھتا ہے کہ کسی کو میں جانتا نہیں تھا لیکن یہ اخلاق دیکھ کر سفر کی آدھی تھکان اور کوفت جو تھی وہ دور ہو جاتی تھی۔تو بس یہی ایک احمدی کا طرہ امتیاز ہے اور ان اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہم میں سے ہر ایک کو کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان اعلیٰ اخلاق کو ہمیشہ قائم رکھنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔اسی طرح تبشیر کی مہمان نوازی کا بھی اس مرتبہ بہت اچھا معیار رہا ہے۔جامعہ کے طلباء، واقفین ئو اور واقفات ٹو نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ہر مہمان ان کی تعریف کر رہا ہے۔لیکن خود کارکن کو اپنا یہ جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ اگر کہیں کوئی کمی ہے تو اس کو آئندہ سال کس طرح بہتر کیا جاسکتا ہے۔پھر اس دفعہ عرب مہمانوں کا بھی بڑا وفد آیا تھا۔وہ بھی 110 سے اوپر آدمی تھے۔اُن کا عمومی انتظام بھی گزشتہ سال سے بہت بہتر تھا۔عرب ڈیسک یو کے اور ان کے نائب سیکرٹری تبلیغ اس سال انچارج تھے۔انہوں نے بھی اور اُن کی ٹیم نے بھی ماشاء اللہ بڑا اچھا کام کیا۔اللہ تعالیٰ اُن کو بھی جزا دے۔یہ گزشتہ سال بھی تھے لیکن اتنا بہتر انتظام نہیں تھا جتنا اس سال ہوا ہے۔پھر بہت سارے مہمان جو مجھے ملے ہیں، اُن کو جو چیز متاثر کرتی ہے، وہ یہ کہ اپنے عمومی تاثرات دیتے ہوئے وہ تصویری نمائش کا بڑا ذکر کرتے ہیں۔عمومی طور پر احمد یوں میں بھی اس کا اچھا feed back ہے کہ اس سے احمدیوں کو اپنی تاریخ کا پتہ لگا، غیروں کو بھی ہماری تاریخ کا پتہ لگا اور اس سے وہ متاثر بھی ہوئے۔لنگر خانے کے نظام میں بھی گزشتہ سال کی نسبت بہتری ہوئی ہے۔روٹی بھی عمومی طور پر پسند کی گئی ہے۔اسی طرح سالن بھی۔لیکن ایک صاحب ہیں جنہوں نے کھانے پر خوب اعتراض کیا ہے کہ بُو آ رہی تھی اور باسی تھا اور یہ تھا اور وہ تھا۔بہر حال میں نے تو جن لوگوں سے بھی پوچھا ہے اور لوگ خود ہی مجھے لکھ رہے ہیں اور مختلف وقت میں خود میں نے بھی کھانا دیکھا ہے مجھے تو باسی کھانا نہیں لگا۔ہوسکتا ہے کہ ان کو کسی نے باسی کھانا کھلا دیا ہو۔لیکن یہ شخص جس نے مجھے لکھا ہے میں جانتا ہوں ان کو اپنے علاوہ کسی کا کام اچھا بھی نہیں لگتا۔اور یہ ہر ایک کا کام غیر معیاری سمجھتے ہیں اور ان کا لکھا ہوا یہ فقرہ بھی اس بات کی گواہی