خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد 11 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء دیکھا اور پھر میری جو تقریریں تھیں اُن کو بھی سنا، اس پر وہ کہنے لگے کہ یہاں آنے سے پہلے آپ کے مخالفوں کو دیکھا اور پڑھا بھی ہے اور آج میں صاف طور پر یہ کہ سکتا ہوں کہ وہ باتیں جو میں نے یہاں دیکھیں اور سنی ہیں اور آپ کے خلیفہ کو دیکھا ہے تو یہ بات مجھ پر صاف کھل گئی ہے کہ آج کے مخالفوں میں کوئی بھی حقیقت نہیں اور اُس کے مقابل پر جو راہیں اور جو اصول آپ کے خلیفہ بیان کر رہے ہیں ، اب دنیا کے لیڈرز کے پاس اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ آپ کے خلیفہ کے بازوؤں میں آجائیں۔جب انسان حدیقۃ المہدی میں داخل ہوتا ہے تو اس وقت ایک عجیب نظارہ یہ ہوتا ہے کہ سارا شہر ہی جنگل میں آباد ہوتا ہے۔تو جس وقت وہ داخل ہوئے تو کہتے ہیں کہ آپ نے سارا انگلینڈ خریدا ہوا ہے؟ پھر کہنے لگے کم از کم تین چار ہزار آدمی تو یہاں کام کر رہے ہوں گے اور جب اُن کو بتایا گیا کہ سب رضا کارانہ طور پر خدمت کر رہے ہیں تو کہنے لگے بڑی حیرانگی کی بات ہے اور میری سوچ سے بھی بالا ہے۔پھر کہنے لگے کہ اتنے بڑے مجمع میں کوئی پولیس والا بھی نظر نہیں آ رہا۔جلسہ کے دوران انہوں نے بعض کارکنان سے بھی بات کی اور جب انہیں پتہ چلا کہ ان میں سے بعض بڑے عہدوں پر ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام کر رہے ہیں اور زمین پر سوتے ہیں تو کہنے لگے کہ اس طرح ڈسپلن اور اطاعت کا معیار میں نے پہلے کبھی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔آپ کی جماعت سے کوئی بھی نہیں جیت سکتا۔پھر دوسرے روز کے میرے خطاب کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ جو آپ کا خطاب تھا، میں نے اس میں جو بات سب سے زیادہ محسوس کی ہے اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں دنیا کے بڑے بڑے سیاست دانوں سے ملا ہوں، بڑے بڑے جلسوں میں شرکت کی ہے۔کاش ہم سیاسی لیڈر ہر سال اپنی عوام کے سامنے جو کچھ ہم نے کیا ہے ایمانداری کے ساتھ پیش کریں تو حکومت اور عوام میں بڑی تبدیلی آجائے۔لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ دو گھنٹے اس طرح کھڑے رہنا، پر سکون اور اطمینان کے ساتھ ہر بات واقعات کے ساتھ کھول کر، اعداد وشمار کے ساتھ پیش کرنا ، یہ بہت بڑا کام ہے۔پھر کہتے ہیں کہ آج تیس ہزار سے زائد افراد کی موجودگی میں جب آپ کے خلیفہ کو سنا ہے تو مجال ہے کہ اس دوران کسی بھی شخص نے کسی قسم کی کوئی بات کی ہو۔کہنے لگے کہ عجیب بات ہے جو میں نے دیکھی کہ تقریر کے دوران جب آپ کے خلیفہ چندلحات کے لئے ٹھہر جاتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ پوری مارکی میں کوئی انسان بھی نہیں بیٹھا ہوا۔بڑی خاموشی طاری ہوتی۔کہتے ہیں میں نے بعض دفعہ سر اُٹھا کر اوپر دیکھنے کی کوشش بھی کی کہ شاید کوئی تو بول رہا ہو گا لیکن مجھے کوئی شخص بولتا ہوا نظر نہ آیا۔سب کی آنکھیں بس صرف ڈائس کی طرف لگی ہوئی تھیں۔پھر کہا کہ یہ نظارہ میں