خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 488
خطبات مسرور جلد 11 488 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013ء ہو تو دوسرے دور کر اور مُلاں کے خوف سے انہیں ملازمتوں سے فارغ کر دیتے ہیں یا پھر مستقل ٹارچر اُن کو دیا جاتا ہے، ذہنی اذیتیں دی جاتی ہیں ، ساتھ کام کرنے والے ساتھی دیتے رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں اور برداشت کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے پھر بعض لوگوں کو مجبور املا زمت چھوڑنی پڑتی ہے۔کئی احمدی ایسے ہیں جن کے کاروبار ہیں، دو کا نداری ہے تو انہیں ماحول میں بدنام کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ نعوذ باللہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گرانے والے ہیں اور آپ کو خاتم النبین نہیں مانتے۔حالانکہ احمدی ہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت کا سب سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہیں اور ہر اُس شخص کو کافر سمجھتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتا۔اس کے بغیر تو احمدیت کی بنیاد ہی کوئی نہیں۔پھر سکولوں میں احمدی بچوں کو ٹارچر دیا جاتا ہے۔مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اُنہیں ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔بہر حال ان سب مشکلات کے باوجود ہر احمدی کو جماعتی وقار کا خیال رکھنا ہر صورت میں ضروری ہے۔اگر حالات کی وجہ سے اسائلم کرنا ہے تو اس کے اور بھی بہت سارے طریقے ہیں ، بیشک آئیں۔لیکن یہاں میں پھر اس بات کا دوبارہ اعادہ کروں گا اور پہلے بھی بہت مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ اسائلم کے وقت غلط اور لمبے چوڑے بیان دینے کے بجائے اگر مختصر اور سچائی پر مبنی بات ہو تو یہاں جو افسران کی اور جوں کی بھی اکثریت ہے وہ ایسے ہیں جو انسانی ہمدردی کے لئے بہت نرم گوشہ رکھتے ہیں۔اُن میں انسانی ہمدردی بہت زیادہ ہے اور اسائلم قبول کر لیتے ہیں۔بعض ضدی بھی ہیں اگر ایک دفعہ اڑ جائیں تو اُن کو قائل کرنا مشکل ہوتا ہے۔وہ لوگ پھر ایسے ہیں کہ چاہے جتنی مرضی کہانیاں بنالی جائیں اُن پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔اور پھر ایک انسان ایک احمدی اس غلط بیانی کا گناہگار بھی بن رہا ہوتا ہے۔بہر حال ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ سچی بات کہیں مختصر بات کریں، اس سارے ٹارچر کا ذکر کریں۔ضروری نہیں ہے کہ ڈائریکٹ Threat ہو تب ہی کوئی کیس پاس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی کیس پاس ہو جاتے ہیں۔اس لئے اگر سچائی پر بنیا درکھیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ کیسی بھی پاس ہوتے چلے جائیں گے۔بہر حال یہ ہماری ذمہ داری ہے، ہر احمدی کی ذمہ داری ہے، خاص طور پر باہر رہنے والوں کی کہ ہمیں ان لوگوں کے لئے جو مشکل میں گرفتار ہیں، ان احمدیوں کے لئے جو ہر لحاظ سے بڑی پریشانی اور تنگی کی زندگی گزار رہے ہیں، دعا کرنی ا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مشکلات دور فرمائے اور اُن کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔اللہ تعالیٰ جلسے پر آنے والوں کو بھی جلسے کی برکات اور ماحول سے فیضیاب فرمائے۔جو دور دراز