خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 489
خطبات مسرور جلد 11 489 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اگست 2013ء سے جلسے میں شمولیت کی نیت سے آئے ہیں اُن کی دعائیں بھی قبول فرمائے۔جو آنے کے انتظار میں بیٹھے تھے مگر اُن کو ویزے نہیں مل سکے۔اللہ تعالیٰ اُن کی بھی نیک خواہشات کو پورا فرمائے اور اُن کی دعائیں قبول فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں بھی اُن کے حق میں قبول ہوں۔آخر میں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ارشاد پیش کرتا ہوں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ نیکی و محض اس لئے کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اُس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو۔قطع نظر اس کے کہ اُس پر ثواب ہو یا نہ ہو۔ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جبکہ یہ وسوسہ اور وہم درمیان سے اُٹھ جاوے۔یہ کامل ایمان اُس وقت ہوگا جب خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا پیش نظر ہوگی اور یہ نہیں کہ ثواب ملتا ہے یا نہیں۔پھر فرمایا کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ان اللهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبہ: 120 )۔مگر نیکی کرنے والے کو اجر مدنظر نہیں رکھنا چاہئے۔دیکھوا گر کوئی مہمان یہاں محض اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا، ٹھنڈے شربت ملیں گے تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے آتا ہے۔حالانکہ خود میزبان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور اس کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کرے اور اُس کو آرام پہنچاوے اور وہ پہنچاتا ہے، لیکن مہمان کا خود ایسا خیال کرنا اُس کے لئے نقصان کا موجب ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 561-562 مطبوعہ ربوہ ) پس مہمانوں کو بھی اور میزبانوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کیا اُن کے مقاصد ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ میزبان بھی اپنا فرض ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے یہ فرض ادا کرنے والے ہوں۔اور مہمان بھی خالصہ اللہ اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آنے والے ہوں اور کوئی ذاتی اغراض اُن کے شامل حال نہ ہوں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 20 شماره 38 مورخہ 20 ستمبر تا 26 ستمبر 2013 ، صفحہ 5 تا صفحه 7)