خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد 11 477 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء بارے میں کیا فرماتا ہے؟ ایک جگہ فرمایا وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا ( بنی اسرائیل : 27) اور قرابت دار کو بھی اُس کا حق دو اور مسکین کو بھی اور مسافر کو بھی ، اور فضول خرچی اور اسراف نہ کرو۔یہاں تین قسم کے لوگوں کے حقوق کی بات ہو رہی ہے، لیکن آج کے مضمون کے حوالے سے مسافر کے حق کی طرف توجہ دلاؤں گا۔مسافروں کی بھی کئی قسمیں ہیں لیکن جو خدا تعالیٰ کی خاطر اور خدا تعالیٰ کے کہنے سے سفر کرتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خوش قسمت مسافر ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایسی مجلس جس میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا ذکر ہورہا ہو اُس مجلس میں بیٹھنے والوں پر فرشتے بھی سلامتی اور دعاؤں کے تحفے بھیجتے ہیں۔(صحیح مسلم کتاب الذكر والدعاء۔۔۔باب فضل مجالس الذکر حدیث نمبر 6839) ہمارے جلسے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی ہی مجالس ہیں۔اور ان مجلسوں میں شامل ہونے کے لئے سفر کر کے آنے والوں کا مقام بھی بہت بلند ہے جو اس نیت سے آتے ہیں کیونکہ فرشتے اُن کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ایسے مسافروں کی خدمت اور مہمان نوازی کا حق ادا کرنے والے ہوں جن کا حق خدا تعالیٰ نے قائم فرما دیا۔یقینا اُس کی ادائیگی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہوگا۔اور جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لے اُس سے زیادہ خوش قسمت اور کون ہوسکتا ہے؟ پس اگر غور کریں تو یہ جلسے کا بھی عجیب نظام ہے کہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلتے چلے جارہے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ خدمت کے جذبے کی روح کو ہر خدمت کرنے والے کو سمجھنے کی ضرورت ہے، سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔گو اس جذبے سے خدمت کرتے بھی ہیں لیکن اس میں مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ڈیوٹی دینے والے صرف اس لئے ڈیوٹی نہ دیں کہ جماعت کی طرف سے مطالبہ آیا ہے کہ چلو کام کرنے والوں کا ہاتھ بٹا دو۔صدر خدام الاحمدیہ نے کہہ دیا ہے کہ وقار عمل کرنا ہے اس لئے آ جاؤ، لجنہ کی صدر نے کہہ دیا ہے کہ بطور احسان کام کرنے کے لئے گروپ میں شامل ہو جاؤ نہیں ، بلکہ مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کس طرح اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر مہمان نوازی کی اور اُس کے حق ادا کئے ، اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔اس روایت کو ہم جتنی دفعہ بھی سنیں اور پڑھیں ایک نیا مزہ دیتی ہے یا سبق ملتے ہیں۔حضرت